پنجاب بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری، لاہور میں حبس برقرار رہنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
لاہور:
پنجاب بھر میں مون سون کی بارشوں کا نیا سسٹم داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث صوبے کے مختلف اضلاع میں آئندہ دو سے تین روز کے دوران کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا امکان ہے۔
تاہم لاہور میں بارش کے امکانات نسبتاً کم ہیں، جبکہ حبس اور ہلکی ہوائیں چلنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کا یہ سسٹم پانچ جولائی تک پنجاب کے مختلف علاقوں پر اثر انداز ہوتا رہے گا۔ بارش کے اس سلسلے کے ساتھ تیز ہواؤں اور موسم میں غیر متوقع تغیر کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے۔
لاہور کے حوالے سے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج شہر میں کم سے کم درجہ حرارت 29 اور زیادہ سے زیادہ 33 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، جبکہ حبس میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہلکی ہواؤں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔
ادھر مون سون بارشوں سے لاہور میں جاری ترقیاتی منصوبے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ترقیاتی کاموں کو جلد مکمل نہ کیا گیا تو مون سون کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایم ڈی واسا کے مطابق بارشوں کے دوران پانی کی نکاسی کے لیے آپریشنل اسٹاف کو فیلڈ میں متحرک رکھا گیا ہے تاکہ شہری علاقوں میں پانی جمع نہ ہونے دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔