ایف آئی اے کی کارروائی، حوالہ ہنڈی اور غیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
کراچی:
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) بلوچستان زون نےحوالہ ہنڈی اور غیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق حوالہ ہنڈی اور غیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزمان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور اسی تناظر میں ایف آئی اے بلوچستان زون نے کارروائی کے دوران حوالہ ہنڈی اور غیرقانونی ایکسچینج میں ملوث ملزم کوگرفتار کر لیا ہے۔
ترجمان ایف آئی اے نے بتایا کہ گرفتار ملزم سےلاکھوں روپے مالیت کی غیرملکی کرنسی برآمد ہوئی ہے، ملزم ارشد خان کو چھاپہ مار کارروائی میں سمنگلی روڈ کوئٹہ سےگرفتارکیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم گزشتہ 7 سال سےحوالہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث تھا، جس سے 42 لاکھ روپے برآمد ہوئے۔
ترجمان ایف آئی اے نے کہا ہے کہ ملزم سے حوالہ ہنڈی سے متعلق شواہد بشمول 30 سے زائد چیک بکس، کھاتہ رجسٹر، مختلف اسٹیمپس اور موبائل فون بھی برآمد کر لیےگئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزم برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے حکام کو تسلی بخش جواب نہیں دے سکا، اس حوالے سے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان حوالہ ہنڈی اور غیرقانونی ایکسچینج میں ملوث ملزم ایف آئی اے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔