نااہلی سے نہیں گھبراتے، مریم نواز کی ایوان میں آمد پر احتجاج کرتے رہیں گے، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر نے کہا ہے کہ اسپیکر ہمارے جتنے مرضی اراکین کو معطل یا نااہل کروا دیں، مریم نواز کے سامنے اس سے بھی سخت احتجاج کریں گے۔
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ملک احمد خان بھچر نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب صوبے کے عوام پر ظلم کررہی ہیں، ہمیں عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات نہیں کرنے دی جاتی، اس پر احتجاج بھی نہ کریں، یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایوان کا نظم و ضبط مقدم ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی کی دوٹوک رولنگ جاری
انہوں نے کہاکہ پنجاب اسمبلی واحد فورم بچا ہے جہاں ہم احتجاج کرتے ہیں، اگر اسپیکر پنجاب اسمبلی یہ سمجھتے ہیں کہ ایوان کو خالی رکھنا ہے تو رکھیں، لیکن وزیراعلیٰ مریم نواز جب جب ایوان میں آئیں گی ہم سخت سے سخت احتجاج کریں گے۔ اراکین کو معطل کرنے یا نااہل کرانے جیسے ہتھکنڈوں سے ہم مرعوب نہیں ہوں گے۔
کیا احتجاج کرنے والوں کو قتل کردیا جائے گا؟ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ میں نے ایسی کوئی مثال نہیں سنی کہ احتجاج کرنے پر اسمبلی اراکین کو نااہل کردیا جائے، یا نااہلی کے ریفرنس بھیجے جائیں، یہ پنجاب میں پہلی بار ہورہا ہے۔ ’اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی احتجاج کرے گا تو اس کو قتل کردیا جائےگا، یہ حکومت اگر سمجھتی کہ ایسا کرنے سے ہم جھک جائیں گے تو ایسی 50 سیٹیں بھی قربان، لیکن ہم جھکیں گے نہیں۔‘
’الیکشن کمیشن نے بلایا تو حاضر ہوں گے‘انہوں نے کہاکہ اگر الیکشن کمیشن بلائے گا تو ہمارے اراکین ضرور حاضر ہوں گے اور اپنا جواب جمع کرائیں گے، نااہلی کا ریفرنس بھیجنے کے بعد ہمیں اسپیکر نے دوبارہ نہیں بلایا۔
ملک احمد خان بھچر نے کہاکہ جس دن وزیراعلی مریم نواز نے ایوان میں بجٹ پر تقریر سمیٹنا تھی، اس روز اسپیکر نے ہمارے ساتھ میٹنگ کی کہ ایوان کے اندر احتجاج نہ کیا جائے، جس پر میں نے کہاکہ یہ فیصلہ ہماری پارلیمانی پارٹی کرے گی، میں خود یہ فیصلہ نہیں لے سکتا۔
’پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ تھا جس پر ہم نے احتجاج کیا، وزیراعلیٰ پنجاب نے غصہ کیا تو اسپیکر پریشر میں آگئے۔ یہ سب کچھ مریم نواز کے کہنے پر ہورہا ہے، جس کے خلاف ہم ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔‘
’ملک کا نام تبدیل کرکے نواز شریف آباد رکھ دیا جائے‘اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ مسلم لیگ ن کی قیادت فرسٹریشن کا شکار ہے، قوم لیڈروں کو ان کے کاموں سے یاد کرتی ہے تختیاں لگانے سے نہیں۔ بڑے بڑے آمروں نے یہ کرکے دیکھا ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز تو قبروں سے لے کر واش روم تک اپنے نام لکھوا رہی ہیں، بہتر ہوگا ملک کا نام تبدیل کرکے نواز شریف آباد رکھ دیا جائے۔
’جیل سے پانچ قیدیوں کا خط عمران خان تک پنہچایا جائے گا‘ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ملک احمد خان بھچر کا کہنا تھا کہ جن پانچ لیڈروں نے جیل سے خط لکھا ہے، وہ عمران خان تک پہنچایا جائےگا۔ خط لکھنے والے پانچوں قیدیوں کی رائے بڑی مقدم ہے، عمران خان ان کی بات زیرغور بھی لائیں گے۔ خط میں لکھا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے مذکرات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کا معاملہ، اپوزیشن کو 13اسٹینڈنگ کمیٹیوں سے ہٹانے کا فیصلہ
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مائنس عمران خان کے حوالے سے دیے گئے بیان سے متعلق علیمہ خان سے بات نہیں ہوئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اپوزیشن لیڈر احتجاج اراکین کی نااہلی اراکین معطل اسپیکر پنجاب اسمبلی پنجاب حکومت مریم نواز ملک احمد خان بھچر وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر اراکین معطل اسپیکر پنجاب اسمبلی پنجاب حکومت مریم نواز ملک احمد خان بھچر وی نیوز ملک احمد خان بھچر اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی مریم نواز نے کہاکہ
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔