اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ  پارلیمانی پارٹی کا اجلاس گزشتہ روز اسلام آباد میں ہوا جس میں اتحاد و اتفاق کا پیغام دیا گیا۔ اجلاس کے بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ 8 فروری کے الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کو نہیں بھولیں گے ہم سیاسی جنگ نہیں حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں ہم بانی پی ٹی آئی کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہماری سیٹیں چھین لینے سے اپنی جد وجہد ختم نہیں کریں گے، ہمیں کہا جاتا ہے کہ مٹی ڈالو اور آگے بڑھو۔ آٹھ فروری کو عوام نکلی یہ تاریخی دن  تھا، جنید اکبر نے کہا کہ خان صاحب کی قیادت تلے ہم سب اکٹھے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کی حفاظت کریں گے، یہ تاثر غلط ہے کہ ہم مذاکرات نہیں چاہتے، حکومت سنجیدہ ہوتی تو بانی سے ملاقات کرواتی۔ خیبر پی کے حکومت کی ہر  چال میں حفاظت کریں گے بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ کہا مذاکرات بامعنی ہونے چاہئیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے ریاست کو چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئینی طریقے سے میری حکومت گرا سکتے ہو تو گرا کر دکھاؤ، اگر کامیاب ہوگئے تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ویسے تو ریاست ماں ہوتی ہے مگر یہ ریاست ہمیں فرعونیت دکھا رہی ہے۔ علی امین نے کہا کہ قانونی اور آئینی طریقے سے تم حکومت ختم نہیں کر سکتے کیونکہ تم ہمارے بندوں کو نہیں توڑ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی میٹنگ ان لوگوں کے لیے پیغام ہے جو سمجھتے کہ ہم الگ ہیں، ہم بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے اپنا تن ، من، دھن لگا رہے ہیں، میں 9 مئی سے پہلے گرفتار ہوا تھا ، کہا جاتا ہے کہ 9 مئی کو ہم نے زیادتی کی مگر بانی پی ٹی آئی کے خلاف سازش 9 مئی سے پہلے شروع ہو چکی تھی۔ علی امین نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم عدلیہ پر ایک حملہ ہے اور جب تک ہم واپس اقتدار میں آکر اس کو واپس نہیں کرتے تب تک عدلیہ قید رہے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت، اختیار سب بانی پی ٹی آئی کے پاس ہے وہ جب چاہیں حکومت گرانے کا حکم دے دیں، ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ گنڈا پور نے کہا کہ عمران خان نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، ہم اْن کے ساتھ بات چیت چاہتے ہیں جن کا اختیار ہے، آج یہ ڈنڈے کے زور پر ملک چلا رہے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ن لیگ یا پیپلزپارٹی کی کیا حیثیت ہے۔ تحریک سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ محرم کے بعد ہم ملک گیر سطح پر اپنی سیاسی تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں اور اس کو بڑھائیں گے، اگر ہم پر گولیاں چلیں تو جواب بھی ویسے ہی آئے گا۔ سرحدی معاملات ہماری ذمہ داری نہیں ہیں۔ خیبر پی کے میں 80 فیصد دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔ پہلے دن سے وفاق سے کہہ رہا ہوں مذاکرات کرو، سارے ادارے تحریک انصاف کو توڑنے میں لگ گئے۔ دہشتگردی بڑھ گئی۔ خیبر پی کے نے تاریخ میں پہلی بار 250 ارب روپے کا سرپلس ریونیو حاصل کیا ہے، بغیر ٹیکس بڑھائے ٹیکس ریونیو میں اضافہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی خیبر پی کے پی ٹی ا ئی پی ٹی آئی نے کہا کہ رہے ہیں

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ناتمام (آخری قسط)
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم