بھارت سے جنگ کے دوران پاکستان کو غیبی مدد کیسے ملی؟ محسن نقوی نے واقعات سنادیے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
اسلام آباد: وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا ہےکہ بھارت سے جنگ کے دوران پاکستان کو غیبی مدد ملی تھی۔
اسلام آباد میں علمائے کرام کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ بھارت کے حملوں کے دوران پاکستان کو غیبی مدد ملی، بھارت نے ایک بیس پر 11 میزائل فائرکیے، وہاں ہمارے 9 یا11 طیارے تھے مگر تمام میزائل بیس سے باہر گرے اور ہمارے کسی طیارے کو نقصان نہیں پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے تھے بھارت کی شہری آبادی پرحملہ کریں مگر پاکستان نے جب بھارت کی طرف میزائل فائر کیے ان میں ایک میزائل میں فائرکرتے وقت فرق آگیا، ہمیں پریشانی ہوئی کہ یہ میزائل تو آبادی پر گرجائےگا لیکن اللہ کی طرف سے مدد آئی اور وہی میزائل بھارت کے سب سے بڑے آئل ڈپوپرلگا، یہ دومثالیں غیبی مددکو بالکل ثابت کرتی ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بھارت کے حملے کے وقت آرمی چیف ڈٹ کر کھڑے تھے اور ان کا عزم تھا کہ بھارت کو چار گنا زیادہ بھگتنا پڑے گا۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہ بھارت
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :