محرم الحرام ؛ 23 اضلاع میں موبائل و انٹرنیٹ سروس بند کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
سٹی 42 : وزارت داخلہ کی جانب سے عاشورہ کے موقع پر حساس علاقوں میں موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے صوبوں کی درخواست پر موبائل سروس بند کرنے کے حوالے سے پی ٹی اے کو ہدایات جاری کردیں۔ صوبہ پنجاب کی درخواست پر 23 اضلاع میں عاشورہ کے موقع پر موبائیل و انٹرنیٹ سروس بند رہیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شیخوپورہ ،گجرانوالہ،نارووال ،گجرات ،منڈی بہاوالدین اور وزیر آباد میں متعین کردہ مختلف اوقات میں موبائیل و انٹرنیٹ سروس بند رہیں گی، جبکہ چکوال، راولپنڈی، سرگودھا، خوشاب، میانوالی، بھکر اور فیصل آباد میں بھی سروس بند رہے گی۔ اسکے علاوہ جھنگ ، ملتان، لودھرا، اوکاڑا، پاک پتن، ڈی جی خان، راجن پور، لیہ، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں بھی مختلف اوقات میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند رہے گی۔
کم سن بچی سوئمنگ پول میں ڈوب کر جاں بحق
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: انٹرنیٹ سروس
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔