عاشورہ سکیورٹی پلان؛ ڈرونز سے نگرانی، اسلام آباد میں پہلی بار موبائل کنٹرول روم قائم
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
ملک میں عاشورہ سکیورٹی پلان کے تحت ڈرونز سے نگرانی کیے جانے کے علاوہ اسلام آباد میں پہلی بار موبائل کنٹرول بھی قائم کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر عاشورہ کے موقع پر اسلام آباد میں پہلی بار جدید سہولیات سے آراستہ موبائل کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے، جو موبائل سگنلز کی عدم موجودگی میں بھی فعال رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مجالس اور جلوسوں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔ سکیورٹی انتظامات میں ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سیکٹر جی 6 میں واقع مرکزی امام بارگاہ اثنا عشری کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مرکزی ہال اور سکیورٹی پلان پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا۔
وزرا نے اسلام آباد پولیس کی جانب سے قائم کردہ موبائل کنٹرول روم کا معائنہ بھی کیا اور سکیورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اس موقع پر طلال چوہدری نے بتایا کہ عاشورہ سکیورٹی کے لیے 1762 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جب کہ 4 داخلی راستوں پر 350 ٹریفک اہلکار بھی موجود ہوں گے تاکہ ٹریفک روانی برقرار رکھی جا سکے۔ عزاداروں کے لیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
طلال چوہدری نے مزید بتایا کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کے نفرت انگیز مواد کی روک تھام کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی متحرک ہے، جو مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی نے سکیورٹی پلان سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 9 محرم کو عزادار راولپنڈی سے اسلام آباد اور 10 محرم کو اسلام آباد سے راولپنڈی روانہ ہوں گے۔ سکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے سیکٹر وائز سکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے اور مجالس و جلوسوں کے لیے مربوط نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ رضاکار بھی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مل کر اپنے فرائض سرانجام دیں گے جب کہ جلوس کے راستوں پر سی سی ٹی وی کیمروں سے مکمل نگرانی کا نظام فعال ہے۔
دورے کے دوران چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، ڈی آئی جیز، چیف ٹریفک آفیسر اور ایس پیز بھی موجود تھے، جنہوں نے موقع پر سکیورٹی پلان کا جائزہ لیا اور انتظامات کو حتمی شکل دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موبائل کنٹرول سکیورٹی پلان اسلام آباد گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔