پاکستان کا  سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر  حاصل کرنے والے کیپٹن کرنل شیرخان کا 26واں یوم شہادت  نہایت عقیدت اور احترام کے ساتھ آج منایا جارہا ہے۔  قوم اپنے اس عظیم سپوت کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے، جس نے  کارگل کے معرکے میں بھارت کے خلاف  جرات، بہادری اور شجاعت کی عظیم مثال قائم کی، جس کی بہادری کا اعتراف نہ صرف پاکستان بلکہ دشمن بھارت نے بھی کیا۔ کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے نومبر 1992ء میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا اور 1995 میں سندھ رجمنٹ کا حصہ بنے۔ جنوری 1998ء میں انہوں نے اپنی خواہش پر لائن آف کنٹرول پر خدمات انجام دینے کے لیے خود کو پیش کیا، جہاں وہ ناردرن لائٹ انفنٹری میں تعینات ہوئے۔ 28 جون 1999ء کو بھارتی فوج نے کارگل کے دراس سیکٹر پر بھرپور حملہ کیا، مگر کیپٹن شیر خان کی قیادت میں محض 14 جوانوں نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا اور ان کے قدم اکھاڑ دیے۔ بھارتی بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) مہندر پرتاب سنگھ نے ان کی بے خوفی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں جوابی حملوں نے ہماری دفاعی لائن کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ دن کی روشنی میں دشمن پر حملہ صرف شیر خان ہی کر سکتا تھا۔ کیپٹن شیر خان نے بہادری، جرات اور اعلیٰ حکمت عملی سے دشمن کی چوٹی ٹائیگر ہل اور اردگرد کی بلندیوں پر حملہ کیا۔ ان کے حملے نے اتنا خوف پیدا کیا کہ بھارت کو 8 سکھ بٹالین کے لیے اضافی نفری منگوانی پڑی۔ 5 جولائی 1999ء کو کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ وہ آخری سانس تک دشمن کا مقابلہ کرتے رہے اور شہادت کے وقت بھی ان کی انگلی بندوق کے ٹریگر پر تھی۔ ان کی بے مثال شجاعت کے اعتراف میں بھارتی کمانڈر نے بھی ان کے جسد خاکی کے ساتھ ایک خط بھیجا جس میں لکھا تھا کہ ایسے سپاہی کو بہادری کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا جانا چاہیے۔ 13 اگست 1999ء کو حکومتِ پاکستان نے کیپٹن کرنل شیر خان کو پاکستان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر عطا کیا۔ آج ان کی قربانی کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وطن کے لیے جان قربان کرنے والے کبھی نہیں مرتے، وہ قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کیپٹن کرنل شیر

پڑھیں:

مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی

پشاور:

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا