کربلا کا پیغام آزادی اور سب کے حقوق کا خیال رکھنا ہے، علامہ شبیر حسن میثمی
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
عشرہ مجالس سے خطاب کرتے ہوئے شریعہ ایڈوائزری بورڈ کے رکن نے کہا کہ نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ نے کربلا کے تمام مراحل میں امت مسلمہ کے جس پیغام سے آشنا کیا اور رہتی دنیا تک وہ پیغام ہر ذی شعور انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ ا اسلام ٹائمز۔ معروف مذہبی رہنما و عالم دین اور شریعہ ایڈوائزری بورڈ کے رکن علامہ شبیر حسن میثمی نے دین محمدی کے عنوان سے جاری عشرہ محرم الحرام کی مجالس عزا سے قرآن سینٹر ڈیفنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اور حقوق دو ایسے پر ہیں جن کے ذریعہ کوئی بھی سوسائٹی مہذب بن سکتی ہے اور ترقی کی منازل طے کرسکتی ہے، امام حسینؑ نے کربلا کے میدان کو خرید کر قیامت تک کے لیے انسانیت کو دوسرے کے حقوق کی رعایت کرنے کا سبق سکھایا، نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ نے کربلا کے تمام مراحل میں امت مسلمہ کے جس پیغام سے آشنا کیا اور رہتی دنیا تک وہ پیغام ہر ذی شعور انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ اے لوگو اگر تم اللہ سے نہیں ڈرتے اور قیامت پر بھی ایمان نہیں رکھتے تو کم از کم آزاد انسان تو بن کر رہو ایک آزاد انسان کے طور پر زندگی گزارو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔