شبمن گل کی چھوٹی سی غلطی نے بھارتی بورڈ کو مشکل میں ڈال دیا، 250 کروڑ نقصان کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
ایجبسٹن ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے بھارتی کپتان شبمن گل ایک بڑی مشکل میں پھنس سکتے ہیں اور انکی یہ غلطی بھارتی بورڈ کو 250 کروڑ روپے کے نقصان سے دوچار کر سکتی ہے۔
شبمن گل نے دوسرے ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں مجموعی طور پر 430 رنز بنائے جس میں پہلی اننگز میں 269 اور دوسری میں 161 رنز شامل ہیں۔ ان کی شاندار بیٹنگ کی بدولت بھارت نے فتح حاصل کی۔
تاہم بھارت کی دوسری اننگز کے دوران جب ٹیم نے 427/6 پر اننگز ڈیکلیئر کی، تو شبمن گل پویلین سے میدان میں نائکی کی ٹائٹس پہن کر آئے، جو بی سی سی آئی کے اسپانسر معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ بی سی سی آئی کا موجودہ کِٹ اسپانسر ایڈیڈاس ہے اور تمام کھلاڑیوں پر لازم ہے کہ وہ صرف ایڈیڈاس کا لباس یا سامان استعمال کریں۔ گل کے نائکی کی پراڈکٹ پہن کر میدان میں آنے سے ایڈیڈاس کے ساتھ کیے گئے 250 کروڑ روپے کے معاہدے پر اثر پڑ سکتا ہے۔
یہ معاہدہ 2023 سے مارچ 2028 تک کے لیے ہے اور گل کا یہ عمل معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
کیا ایڈیڈاس معاہدہ منسوخ کر سکتا ہے؟
قانونی طور پر ایڈیڈاس معاہدہ ختم کرنے اور ہرجانہ طلب کرنے کا اختیار رکھتا ہے کیونکہ اسپانسر شپ کی شرائط کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
تاہم، چونکہ بی سی سی آئی دنیا کا امیر ترین کرکٹ بورڈ ہے اس لیے ایڈیڈاس کے لیے بھی یہ شراکت داری فائدے مند ہے۔ اس لیے امکان یہی ہے کہ ایڈیڈاس بورڈ اور کھلاڑی کو محض وارننگ دے کر معاملہ رفع دفع کر دے گا۔
بی سی سی آئی کی جانب سے شبمن گل کو ممکنہ طور پر نوٹس بھیجا جائے گا تاکہ وہ اپنی وضاحت پیش کر سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شبمن گل
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔