اسلام آباد (اوصاف نیوز)پاکستان میں کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر نے سال 2025 کے لیے پاکستان میں اپنے فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ کے تیسرے مرحلے کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔

کنگ سلمان ریلیف سینٹر ملک کے 34 پسماندہ اضلاع میں 30,000 غذائی پیکجز تقسیم کرے گا، جس سے 2,10,000 سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔

پروجیکٹ کی افتتاحی تقریبِ سعودی سفارت خانہ اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں مملکتِ سعودی عرب کے پاکستان میں سفیر، جناب نواف بن سعید المالکی؛ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، جناب رانا تنویر حسین، اور کنگ سلمان ریلیف سینٹر پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ البقمی نے شرکت کی۔

یہ اقدام اس منصوبے کے پہلے دو کامیاب مراحل کی تکمیل کے بعد کیا جا رہا ہے، جن کے دوران پانچ ماہ کے عرصے میں بلوچستان، سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا ، گلگت بلتستان، اور آزاد جموں و کشمیر کے 61 اضلاع میں 60,000 فوڈ پیکجز تقسیم کیے گئے

۔اس فوڈ پیکیج میں تمام تر ضروری اشیاء خردونوش شامل ہیں ۔ ایك فوڈ پیك 95 كلوگرام پر مشتمل ہے جس میں 80 كلو فائن آٹا ،5كلو دال چنا ، 5لیٹر كوكنگ آئل اور 5كلو چینی شامل ہیں ۔ یہ پیکجز ایک خاندان کو پورے مہینے کے لیے کفایت فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں جوکہ کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی نگرانی اور مقامی حکومت کے تعاون سے تقسیم کیے جائیں گے۔

یہ منصوبہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، اور دیگر مقامی شراکت داروں کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد غذائی عدم تحفظ کا تدارک، غذائی صحت میں بہتری، اور قدرتی آفات سے متاثرہ و پسماندہ طبقات کی مدد کرنا ہے۔

تقسیم کے لئے مستحق خاندانوں کی نشاندہی مقامی حکام کے ساتھ مل کر کی جائے گی تاکہ امداد درست حقداروں تک پہنچ سکے۔یہ پروجیکٹ مملکت سعودی عرب کے انسانی ہمدردی کے منصوبوں کے تحت پاکستان میں کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کی زیر نگرانی ضرورت مند افراد میں شفاف طریقے سے مقامی حکومت کے تعاون سے تقسیم کیے جائیں گے۔
سونا اڑھائی ہزار روپے سستا ، فی تولہ 3 لاکھ ، 53 ہزار کا ہو گیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کنگ سلمان ریلیف سینٹر پاکستان میں

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • جتنی خطرناک سازشیں نوازشریف کیخلاف ہوئیں عوام کی سپورٹ نہ ہوتی تو ہمارا نام ختم ہوجانا تھا: مریم
  • پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اسکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا
  • وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر ‘اسکائی 47 قراقرم ون’ کا افتتاح کر دیا
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال