ملکی ٹیکس آمدن میں اضافے کیلئے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
ملکی ٹیکس آمدن میں اضافے کیلئے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 7 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)کی جانب سے ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے کیے گئے موثر اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی ٹیکس آمدن میں اضافے کے لیے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف کو ایف بی آر اور آئی بی کی جانب سے ٹیکس چوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف جاری آپریشنز پر تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔وزیر اعظم کو پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آئی بی اور ایف بی آر کی مشترکہ کوششوں سے 178 ارب روپے کی ریکوری ممکن ہوئی، ان اقدامات سے کمپنیوں کے انضمام اور ٹیلی کمیونیکیشن شعبے میں بقایا جات کی مد میں ٹیکس آمدن میں 69 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق اٹیلی جینس بیورو کی جانب سے چینی، جانوروں کی خوراک، مشروبات، خوردنی تیل، تمباکو اور سیمنٹ کے شعبے میں 515 چھاپے مارے گئے، ان کاروائیوں کے نتیجے میں ٹیکس چوری کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے 10.
وزیر اعظم نے ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ملکی ٹیکس آمدن میں اضافے کے لیے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا، پاکستان کا معاشی استحکام ٹیم کی مشترکہ کوششوں کی بدولت ممکن ہوا، عوام کی خوشحالی کے لیے بھی سب کو مل کر کام کرنا ہے۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان کے معاشی استحکام میں تمام اداروں کی مشترکہ کوششوں کا کلیدی کردار ہے، معیشت کی ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے بھی ہر ادارے کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سے اماراتی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اتصالات گروپ کے سی ای او حاتم داویدار کی قیادت میں 5 رکنی وفد نے ملاقات کی، اس ملاقات میں وفاقی وزرا اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، شزا فاطمہ خواجہ اور دیگر اعلی افسران شریک تھے۔وزیراعظم نے اتصالات گروپ کو پاکستانی معیشت کے مختلف سیکٹرز میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی پیشکش کی اور کہا کہ حکومت تمام ترسہولیات فراہم کرے گی۔شہباز شریف نے کہا کہ یواے ای اور پاکستان کے مابین مشترکہ ثقافت اورمذہبی اقدارپرمبنی دیرینہ تعلقات ہیں، اماراتی کمپنیاں پاکستانی معیشت میں عرصہ درازسے سرمایہ کاری کررہی ہیں، تمام بیرونی سرمایہ کار کمپنیوں کو کاروبار دوست ماحول فراہم کریں گے، سرمایہ کاری کے مزید مواقع فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
سی ای او حاتم داویدار نے بہتر کاروباری ماحول کی فراہمی پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اتصالات گروپ پاکستان میں گزشتہ 19 سال سے کامیاب سرمایہ کاری کر رہا ہے، مزید کاروبار اور سرمایہ کاری کا خواہاں ہے، ہماری کمپنی میں 10ہزار سے زائد پاکستانی قابل قدرخدمات سرانجام دے رہے ہیں، ہم پاکستان میں مستقبل کے لیے طویل مدتی اور کامیاب سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقطری شہزادی شیخہ اسما آل ثانی نے پاکستان کی 8126 میٹر بلند پہاڑی نانگا پربت سر کر لی قطری شہزادی شیخہ اسما آل ثانی نے پاکستان کی 8126 میٹر بلند پہاڑی نانگا پربت سر کر لی پراپرٹی ٹراسفر فیس میں اضافے کے معاملے پرسی ڈی اے اور اسلام آباد چیمبر کی مشترکہ کمیٹی قائم ،ٹی او آرز سب نیوز پر چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس ، سیکٹرز ڈویلپمنٹ کے کام کو مزید تیز کرنے کی ہدایت ڈی جی پی ایچ اے احمد حسن رانجھا کا صدر مال روڈ جی پی او چوک راولپنڈی کا خصوصی دورہ، بیوٹیفیکیشن کے حوالے سے... حکومت کا ملک بھر میں پنکھوں کو کم بجلی سے چلنے والوں پنکھوں سے تبدیل کرنیکا فیصلہ وفاقی حکومت کا رواں مالی سال بھی کفایت شعاری کے اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا
پڑھیں:
سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کا ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئی ہیں، بچیوں کو شہید کیا گیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔ جس طرح رمضان میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو، ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں کو شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں، ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشا بڑھ گئی ہے۔ اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دور حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماؤں کی دعاؤں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کو ختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے فوجی اڈوں کو بند کیا۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔ آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام کا ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ تھر کے منصوبے سے تھر کے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شیئر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ سی پیک کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکول کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یو ٹی اور ڈاؤ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشاء اللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگا کر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔