ترجمان شاہد رند کے مطابق ایک سرکاری گاڑی کا خلاف قانون استعمال سامنے آنے پر فوری کارروائی عمل میں لائی گئی ہے اور چیف سیکرٹری بلوچستان نے مذکورہ افسر کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت بلوچستان نے سرکاری وسائل کے غلط استعمال پر نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار افسر کو عہدے سے ہٹا دیا۔ ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کے مطابق ایک سرکاری گاڑی کا خلاف قانون استعمال سامنے آنے پر فوری کارروائی عمل میں لائی گئی ہے اور چیف سیکرٹری بلوچستان نے مذکورہ افسر کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور انہیں قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی وسائل کا غلط اور بے جا استعمال ناقابل برداشت ہے اور ایسے اقدامات پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سرکاری وسائل کے مؤثر اور دیانتدارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ سرکاری مشینری عوام کی خدمت کے لیے وقف رہے۔ ترجمان شاہد رند کے مطابق ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور یہ عمل شفاف حکمرانی و جوابدہی کی پالیسی کا حصہ ہے، جو موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ عوامی اعتماد کی بحالی اور اچھی حکمرانی کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: افسر کو عہدے سے ہٹا دیا کے مطابق کیا جا ہے اور

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی