کرسیاں مارنا‘ مائیک توڑنا احتجاج نہیں قانون شکنی ہے: اعظم نذیر
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
لاہور‘ اسلام آباد (خبر نگار + وقائع نگار) وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئین پاکستان 1973ء میں درج آرٹیکلز صرف کاغذوں کی حد تک نہیں بلکہ وہ مساوات، آزادی اور حقوق کی ضامن ہیں، انہوں نے آرٹیکل 36 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا آئین 1973 کے آرٹیکل 36 کا تعلق پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے ہے۔ گزشتہ روز سول سروسز اکیڈمی میں ایک تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب سے سینیٹر ڈاکٹر رمیش کمار نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا میری درخواست ہے کہ اکیڈمی سمیت تمام اداروں میں "نان مسلم" کا لفظ رائج کیا جائے۔ سینیٹر رمیش کمار نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ پچاس فیصد ہے، لیکن مقابلے کے امتحانات میں عمر کی حد کو پینتیس سال کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان مواقع حاصل کر سکیں۔ سول سروسز اکیڈمی کے ڈی جی فرحان عزیز خواجہ نے اکیڈمی کے قیام کے اغراض و مقاصد اور اس کے کردار پر روشنی ڈالی۔ وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں 26 ارکان کی معطلی سپیکر کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ سپیکر 26 ارکان کے خلاف ڈی سیٹ کرنے کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو ریفرنس بھیج سکتے ہیں۔ اپوزیشن کو احتجاج کا حق حاصل ہے، مگر کرسیاں مارنا، مائیک توڑنا اور ایوان کی املاک کو نقصان پہنچانا احتجاج نہیں بلکہ قانون شکنی ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔نذیر تارڑ نے 26ویں آئینی ترمیم پر کہا ہے کہ اس میں شامل 90 فیصد نکات وہ تھے جن سے بار کا اتفاق موجود تھا، ہم وکیل ہیں ، دلیل سے بات ہونی چاہیے نہ کہ جلسے جلوس سے اور یہ کہ ادارے کی بہتری کو ہر چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز لائیرز فسیلیٹیشن سنٹر کے زیر تعمیر منصوبے کا دوبارہ افتتاح کے بعد وکلاء سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر اسلام آباد بار کونسل کے ممبران راجہ علیم عباسی، عادل عزیز قاضی، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید واجد علی گیلانی، سیکرٹری منظور احمد ججہ، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور دیگر بھی موجود تھے۔ ممبر اسلام آباد بارکونسل راجہ حلیم عباسی نے کہا ہم نے فنڈز کا کہا تو اعظم نذیر تارڑ نے کہا یہ میری ذمہ داری ہے، آج ہماری کارگردگی چیخ کر بتائے گی ہم نے اور اعظم نذیر نے بار کی خدمت کی۔ اعظم نذیر تارڑ نے بار کو 12 ارب کے پراجیکٹ دئیے، اعظم نذیر تارڑ نے تاریخ رقم کی ہم آپکو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ سیکرٹری ہائی کورٹ بار منظور احمد ججہ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ لائیرز فسیلیٹیشن سنٹر کا منصوبہ ڈیڑھ ارب روپے مالیت کا ہے جو جنوری 2024ء میں مکمل ہونا تھا تاہم اب یہ 2 سے 3 ماہ میں مکمل ہونے جا رہا ہے۔ کنٹریکٹر کے مطابق اگر 400 ملین روپے جلد ریلیز ہو جائیں تو یہ منصوبہ یکم اکتوبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ سول سروسز اکیڈمی میں اقلیتی سی ایس ایس کے خواہمشندوں کیلئے نیشنل آؤٹ ریچ پروگرام کا افتتاح کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ نے نے کہا
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔