کرسیاں مارنا، مائیک اکھاڑنا، لڑنا جھگڑنا احتجاج نہیں، اعظم نذیر تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
وفاقی وزیر قانون و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ کرسیاں مارنا، مائیک اکھاڑنا اور لڑنا جھگڑنا احتجاج نہیں کچھ اور ہے۔
والٹن لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے صحافی نے استفسار کیا کہ احتجاج دونوں جانب سے ہوا لیکن معطل اپوزیشن ارکان ہوئے، حکومتی ارکان ذرا بھی نہیں ہٹے۔
وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ جہاں کوئی بھی اپنی لائن کراس کرتا ہے تو ہم انھیں سینٹر میں بٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ غلط ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج آپ کا حق ہے، لیکن کرسیاں مارنا، مائیک اکھاڑنا، لڑنا جھگڑنا یہ احتجاج نہیں کچھ اور ہے، میرے خیال سے قانون کو اپنا راستہ لینا چاہیے۔
اعظم نذیر تارڑ نے یہ بھی کہا کہ مجھے یقین ہے اسپیکر صاحب نے جمہوری روایات کو زندہ رکھنے کےلیے ایسا کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ گھر میں بھی بڑے کا رول ہوتا ہے اسے سامنے رکھتے ہوئے ہی کوئی بہتر راستہ نکالنا پڑتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔