اداکار نعمان اعجاز کا بجلی بلوں پر شدید ردعمل، 200 یونٹس کی پالیسی کو ‘ظلم’ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بلوں میں بے تحاشا اضافے نے جہاں عوام کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے، وہیں شوبز ستارے بھی اس عوامی کرب میں آواز اٹھا رہے ہیں, سینئر اداکار نعمان اعجاز نے بجلی کے بلوں، یونٹ پالیسی اور حکومتی بے حسی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق اداکار نے انسٹاگرام پر ایک طنزیہ پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ “ایک عام شہری کبھی میٹر کو گھورتا ہے، کبھی سورج کو اور کبھی اپنے بچوں کو مگر کہیں سے کوئی ریلیف نظر نہیں آتا۔
نعمان اعجاز نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ 200 یونٹس کی پالیسی کو فوری ختم کیا جائے کیونکہ یہ عام شہریوں کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔
انہوں نے بجلی کے نظام کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غریب اور متوسط طبقہ ہر ماہ کے اختتام پر بجلی کے بلوں سے خوف زدہ ہو جاتا ہے جبکہ مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور خراب معیشت کے اس ماحول میں کسی قسم کا ریلیف نظر نہیں آ رہا۔
نعمان اعجاز کی اس پوسٹ پر ہزاروں صارفین نے تبصروں کے ذریعے ان کے خیالات سے اتفاق کیا۔
ایک صارف نے لکھایہ 200 یونٹ کی حد عوام کو رعایت دینے کے بجائے سزا دینے کا ہتھکنڈہ ہے۔ اصل رعایت کہیں نہیں، صرف خالی دعوے ہیں۔
خیال رہےکہ قبل خالد انعم، آمنہ ملک اور دیگر فنکار بھی بجلی کے بلوں پر اپنے تحفظات اور غصے کا اظہار کر چکے ہیں، فنکار برادری کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور توانائی بحران نے ہر شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے مگر حکومت عوامی مسائل سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
عوامی شکایات میں اضافہ اس وقت شدت اختیار کر جاتا ہے جب بجلی فراہم کرنے والی کمپنی، خصوصاً کراچی میں کےالیکٹرک، بل جمع نہ کرانے پر صارفین کو فوری لائن کاٹنے کی دھمکی دیتی ہے، مگر کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ پر “کھسیانی بلی” بن جاتی ہے اور کوئی جوابدہی نہیں ہوتی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ سڑا ہوا نظام ہے جس میں انصاف، توازن اور سروس سب غائب ہیں۔ ایک طرف مکمل سروس نہیں دی جاتی، دوسری جانب صارفین کو کئی کئی ہزار روپے کے بل تھما دیے جاتے ہیں، عوامی سطح پر مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ توانائی کے شعبے میں شفافیت، انصاف اور مستقل حل فراہم کیا جائے تاکہ ملک کا عام شہری ریلیف محسوس کر سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بجلی کے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔