پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کی پختونخوا میں مخصوص نشستیں حصے کے مطابق لینے کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کی خیبر پختونخوا میں مخصوص نشستیں حصے کے مطابق لینے کی متفرق درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی، جس میں عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کی متفرق درخواست پر سماعت کی، جس میں درخواست گزار وکلا سلطان محمد خان، طفیل شہزاد اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے جب کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کے مرکزی سیکرٹری جنرل ملک حبیب نور بھی عدالت میں حاضر ہوئے۔
وکیل سلطان محمد خان نے مؤقف اختیار کیا کہ کچھ روز قبل2جولائی کو الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ الیکشن کمیشن نےخواتین کی مخصوص نشستوں کو مس کلکولیٹ کیا۔ ہماری استدعا ہے کہ ہمیں ہمارے حصے کے مطابق کے پی میں مخصوص نشستیں دی جائیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ 2024ء کا نوٹیفکیشن عدالت سے معطل ہے کیا؟، جس پر وکیل نے بتایا کہ جی وہ معطل نہیں ہے کیس پینڈنگ ہے۔
جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ نوٹس کرتاہوں وہ آکر بتائیں تو دیکھ لیتے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :