اطالوی مصور کا قدیم فن پارہ ساڑھے 11 ارب روپے میں نیلام
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
لندن کے معروف نیلام گھر کرسٹی (Christie’s) میں اطالوی مصور کانیلیٹو کی 18ویں صدی کی مشہور پینٹنگ “Venice, the Return of the Bucintoro on Ascension Day”نے نیلامی کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔ یہ شاہکار پینٹنگ 27.5 ملین پاؤنڈ (32.6 ملین یورو) میں فروخت ہوئی، جبکہ فیسز اور ٹیکسز سمیت اس کی مجموعی قیمت 31.
یہ پینٹنگ 1732 کے لگ بھگ تخلیق کی گئی تھی اور وینس کے عظیم الشان مناظر کو Ascension Day کے موقع پر دکھاتی ہے، جس میں مرکز میں ڈوج (Doge) کی طلائی بارج “Bucintoro” کو واضح طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔
یہ فن پارہ کبھی برطانیہ کے پہلے وزیراعظم رابرٹ والپول کی ملکیت میں تھا اور اس کی قیمت کا اندازہ قریباً 20 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا تھا، تاہم یہ اندازے سے کہیں بڑھ کر فروخت ہوا۔
مزید پڑھیں: سلک روڈ کلچر سینٹر میں ’آرٹ فار لائف-آرٹ فار غزہ‘ آرٹسٹ کیمپ کا آغاز 30 اپریل سے ہوگا
86×138 سینٹی میٹر سائز کی یہ پینٹنگ گزشتہ 2 دہائیوں میں نیلامی کے لیے پیش کی جانے والی سب سے بڑی اور اہم ’کانیلیٹو‘ تخلیق تھی۔ خریدار نے فون پر بولی دے کر اسے کرسٹی کے ڈائریکٹر ایلس ڈی روکومورل کے ذریعے خریدا۔
اس سے قبل یہی پینٹنگ 1993 میں نیلامی میں 66 لاکھ فرانسیسی فرانک (قریباً 7.5 ملین پاؤنڈ/12.2 ملین یورو) میں فروخت ہوئی تھی۔ اس کا ہمزاد فن پارہ 2005 میں سوتھبیز نیلامی میں 18.6 ملین پاؤنڈ (22 ملین یورو) میں فروخت ہوا تھا، جو اس وقت تک کانیلیٹو کے کسی بھی فن پارے کے لیے سب سے زیادہ قیمت تھی۔
یہ نیلامی کانیلیٹو کے فن کی تاریخی و مالی اہمیت کا ایک اور ثبوت ہے، جس نے نہ صرف یورپی مصوری کو جِلا بخشی بلکہ عالمی فنونِ لطیفہ کی دنیا میں بھی ایک نئی بلند چوٹی کو چھو لیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Ascension Day Bucintoro Christie’s the Return of the Bucintoro on Ascension Day Venice عالمی فنونِ لطیفہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عالمی فنون لطیفہ ملین پاؤنڈ ملین یورو
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔