لیاری میں گرنے والی عمارت 40، 50 سال پہلے بنی تھی: سعید غنی
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
سعید غنی—فائل فوٹو
وزیرِ بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ آج کی میٹنگ میں لیاری میں گرنے والی عمارت پر بات ہوئی ہے۔
کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ بلدیات نے مزید کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی آج رات تک رپورٹ پیش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ کے بلائے گئے اجلاس میں کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی، کمیٹی نے پہلی بار اس علاقے کا دورہ کیا۔
سعید غنی نے یہ بھی کہا کہ جو عمارت گری اس کا نمبر کوئی اور تھا، گرنے والی عمارت 40، 50 سال پہلے بنائی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔