ایسے عوامی نمائندوں کو جوتے مارنا چاہئیں جو ضلع میں کالج تک نہیں بنوا سکے، علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
وزیراعلیٰ نے گورنر کے ساتھ ملاقات کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی حلف برداری تقریب میں گیا تھا، میں جو کرتا ہوں چھپاتا نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ 8 ماہ میں لنک روڈ اور ناصر باغ روڈ مکمل ہوگا، 2025ء کا منصوبہ 2035ء تک لے کر نہیں جانا اور اسی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھوں گا جسے پورا کرسکوں۔ وزیراعلیٰ نے پشاور رنگ روڈ کے مِسنگ لنک ناصر باغ روڈ کی تعمیر کا افتتاح کیا۔ صوبائی وزراء مینا خان، ارشد ایوب اور معاون خصوصی عاصم بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پشاور کو جتنی توجہ دینی چاہیے تھی اتنی نہیں دی گئی، اب ہمیں آگے کی سوچ رکھنی ہوگی۔ ہمیں مسائل ورثے میں ملے اور صوبے کے وسائل میں صرف 18 دن کی تنخواہ ملی، لیکن ہم اصولوں پر سیاست کرتے ہیں اور کرنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آگے دوڑ اور پیچھے چھوڑو والے کام نہیں کریں گے، 50 ارب روپے کا اے ڈی پی پلس دیں گے۔ پورے صوبے میں کوئی ایسی تحصیل نہیں چھوڑیں گے جہاں آر ایچ سیز نہ ہوں۔ ضلع بنانے کے ساتھ ساتھ وہاں سہولیات دینا ضروری ہیں، ضلع بنانے سے کام نہیں چلے گا، ترقی تحصیل و ضلع بنانے سے نہیں بلکہ سہولیات دینے سے ہوگی۔ وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ 15 سالوں سے ضلع و تحصیلوں پر سالانہ 30 ارب روپے خرچ کر رہے ہیں۔ ضلع بنے ہوئے ہیں لیکن وہاں ڈی ایچ کیو اسپتال اور کالج ہی نہیں جبکہ دل کے امراض کے لیے پورے صوبے میں ایک ہی اسپتال ہے جس کی وجہ سے اسپتالوں میں تین تین مہینے لوگ انتظار کر نے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے عوامی نمائندوں کو جوتے مارنا چاہیے جو ضلع میں کالج تک نہیں بنوا سکے، ہم پچھلے ادوار کا کام اپنے دور میں کرکے دکھائیں گے، سن 2013 میں جو منصوبے شروع ہوئے اس پر کام آج تک نہیں ہوا۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ انڈسٹریل اسٹیٹ سے نیا روڈ نکالیں گے جو اے ڈی پی میں شامل ہے، پورے پشاور کے لیے مکمل پیکیج ہے۔ ٹی ایم اے سے کام لینا دنیا کا مشکل ترین کام ہے، ملاوٹ کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں جس کا جواب ہمیں اللہ کو دینا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے گورنر کے ساتھ ملاقات کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی حلف برداری تقریب میں گیا تھا، میں جو کرتا ہوں چھپاتا نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور نے کہا کہ
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔