فارما انڈسٹری میں خودانحصاری کی جانب اہم قدم، مقامی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
پاکستان میں صحت کے شعبے کو مستحکم بنانے اور مقامی سطح پر ادویات کی تیاری میں خود انحصاری کے لیے حکومت نے اہم اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے مقامی فارما انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات میں مقامی پیداوار، تحقیق اور بایوٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے نئے فیصلوں سے آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے مقامی فارما انڈسٹری کے نمائندوں سے اہم ملاقات کی جس میں وزیراعظم کی جانب سے مقامی فارما کمپنیوں کے ساتھ اشتراک بڑھانے کی ہدایت سے آگاہ کیا گیا۔
خالد حسین مگسی نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر مقامی فارما انڈسٹری کو مضبوط بنانے کے لیے اداروں کو تعاون کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے تاکہ ملک میں صحت کے شعبے میں خود کفالت حاصل کی جا سکے۔
ملاقات کے دوران مقامی سطح پر کمپیوٹر کنٹرولڈ فرمنٹرز کی تیاری اور پیداوار کی صلاحیت بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ بایو کیمیکلز، بایو فارماسیوٹیکلز اور بایو پروٹینز کی تیاری کے لیے تحقیق و ترقی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
خالد حسین مگسی کے مطابق حکومت کا ہدف ہے کہ ادویات کی پیداوار کے لیے امپورٹ پر انحصار کم کرتے ہوئے بایوٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کو فروغ دیا جائے۔
فارما انڈسٹری کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے APIs کی مقامی سطح پر تیاری کا پلان بھی مرتب کرلیا گیا ہے تاکہ بروقت اور معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (PCSIR) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی فارما کمپنیوں سے براہِ راست رابطہ کرے اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ ملاقات کے لیے شیڈول ترتیب دے تاکہ تمام عملی مسائل اور ضروریات پر جلد پیش رفت ہو سکے۔
حکومت کے ان اقدامات کا مقصد صحت کے شعبے میں درپیش چیلنجز کا حل تلاش کرتے ہوئے مقامی ادویات سازی کی صنعت کو فعال اور مضبوط بنانا ہے تاکہ عوام کو معیاری اور سستی ادویات مقامی سطح پر دستیاب ہو سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خالد حسین مگسی فارما انڈسٹری مقامی فارما کے لیے
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔