کراچی:

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سندھ نے کراچی میں ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا اور ڈرگ انسپکٹر کی جانب سے مانیٹرنگ کا آغاز کردیا گیا ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سندھ نے کہا ہے کہ مارکیٹ میں تمام ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان سندھ آپریشن کے سربراہ ڈاکٹر عبید علی نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ مارکیٹ میں ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کسی کو بھی انسانی صحت اور جان سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کراچی میں جان بجانے والی ادویات کی قلت پیدا کی جا رہی ہے، جس پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے انسپکٹرز نے مانیٹرنگ شروع کردی ہے۔

ڈاکٹر عبید علی نے کہا کہ شہر میں تمام رجسٹرڈ ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں ادویات کی قلت کے حوالے سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے 8 جولائی کو نوٹیفیکشن بھی جاری کردیا ہے، جس میں اس بات کی نشان دہی کی گئی ہے کہ کراچی میں ضروری اور جان بچانے والی ادویات کی مسلسل عدم دستیابی دیکھنے میں آرہی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو شدید خطرہ اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے تمام متعلقہ رجسٹریشن ہولڈرز کو رجسٹرڈ ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ دوسری صورت میں ادویات کی مصنوعی قلت اور عدم دستیابی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ ڈریپ نے نوٹیفیکشن میں منیوفیکچر حضرات اور امپوٹرز سے درخواست کی ہے کہ اپنی سپلائی چین کا جائزہ لیں اور تمام رجسٹرڈ ادویات کی بروقت اور مسلسل دستیابی یقینی بنائیں۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ادویات کی مصنوعی قلت میں ادویات کی کراچی میں قلت پیدا جائے گی

پڑھیں:

ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی