تربیلا پانچواں توسیعی منصوبہ اگلے سال تک مکمل ہو جائے گا، معین وٹو
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
تربیلا ڈیم کے پانچویں توسیعی منصوبے سے بجلی کی پیداوار آئندہ سال متوقع، منصوبے کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1530 میگا واٹ ہے۔ تکمیل کے بعد یہ منصوبہ نیشنل گرڈ کو ہر سال اوسطاً ایک ارب 34کروڑ 70 لاکھ یونٹ کم لاگت پن بجلی فراہم کرے گا۔
توسیعی منصوبہ تربیلا ڈیم کی سرنگ نمبر 5 پر تعمیرجاری ہے۔منصوبے کی تعمیر کیلیے ورلڈ بینک 390 ملین ڈالر جبکہ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک 300 ملین ڈالر مہیا کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر آبی وسائل معین احمد وٹو نے چیئرمین واپڈا نوید اصغر چوہدری اوردیگر حکام کے ہمراہ ٹی ایس5منصوبہ کا دورہ بھی کیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر معین وٹو کا کہنا تھا تربیلا پانچواں توسیعی منصوبہ 2026 تک مکمل ہو جائے گا۔
سستی بجلی کے ساتھ ساتھ لوڈ شیڈنگ میں بھی کمی آئی گی۔ان منصوبوں سے پانی کی کمی کا مسئلہ بھی حل ہوگا۔اس موقع پر چیئرمین واپڈا نوید اصغر چوہدری نے کہا ہے کہ منصوبہ کو جلد مکمل کر لیا جائے گا اور فی یونٹ قیمت پہلی پیدوار سے زیادہ ہو سکتی ہے جس کی وجہ بین الاقوامی کرنسی کا اتار چڑھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔