کوئٹہ، بی این پی کی مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
مقررین نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ سردار اختر جان مینگل اور انکے خاندان کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائیاں بند کی جائیں۔ بلوچ خواتین کو رہا کیا جائے اور بارڈر کو عوام کیلئے فوری طور پر کھولا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام کوئٹہ میں بارڈرز کی بندش، خواتین کی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور بی این پی رہنماؤں پر جعلی مقدمات کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج میں مرکزی کابینہ، سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین، مختلف یونٹس کے عہدیداران، کارکنان، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مظاہرین نے جبری گمشدگیوں، بارڈر بندش اور خواتین کی گرفتاری کے خلاف نعروں پر مشتمل پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے۔ احتجاجی مظاہرے سے بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ، بی ایس او کے مرکزی چیئرمین بالاچ قادر، ضلع کوئٹہ کے قائم مقام صدر ملک محی الدین لہڑی اور خواتین سیکرٹری منورہ سلطانہ نے خطاب کیا۔ مقررین نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ سردار اختر جان مینگل اور ان کے خاندان کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائیاں بند کی جائیں۔ بلوچ خواتین کو رہا کیا جائے اور بارڈر کو عوام کے لئے فوری طور پر کھولا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کے خلاف جعلی مقدمات قابل مذمت ہیں، جنہیں ختم کئے جائیں۔ مظاہرین نے کہا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔