قاہرہ:چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے قاہرہ میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔
چینی میڈیا کے مطابق لی چھیانگ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دونوں سربراہان مملکت کی اسٹریٹجک رہنمائی میں چین مصر تعلقات کو فروغ ملا ہے۔ چین اگلے سال چین اور مصر کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی سترہویں سالگرہ کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روایتی دوستی کی ترقی ، سیاسی باہمی اعتماد کے استحکام ، ایک دوسرے کے بنیادی مفادات سے متعلق امور پر مضبوط حمایت جاری رکھنے، چین مصر جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے مواد کو مسلسل توسیع دینے، مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں مزید کامیابیاں حاصل کرنے اور نئے دور کے پیش نظر چین مصر ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے مصر کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے ۔

چین کے وزیر اعظم نے کہا کہ چین بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے فریم ورک کے تحت مصر کے ساتھ معیشت اور تجارت، مالیات، مینوفیکچرنگ، نئی توانائی، سائنس و ٹیکنالوجی اور ثقافت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کےلیے تیار ہے اور مزید چینی کاروباری اداروں کی مصر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بین الاقوامی صورتحال کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ چین مصر کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھتے ہوئے غزہ میں جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے، انسانی بحران کو کم کرنے، تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے اور فلسطین کے مسئلے کے جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کے لئے کوشش کرتا رہے گا ۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ چین مصر کا مخلص دوست ہے اور سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ہمیشہ مستقل اور ہموار ترقی ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مصر ایک چین کے اصول پر سختی سے کاربند ہے اور چین کے ساتھ قریبی اعلیٰ سطحی تبادلوں کو برقرار رکھنے، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی مشترکہ تعمیر کو آگے بڑھانے اور معیشت و تجارت، سرمایہ کاری، نئی توانائی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے لیے تیار ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نے کہا کہ چین مصر کے ساتھ مصر کے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم