مخدوش عمارت خالی کروانے پر رہائشیوں کا احتجاج، گیس بجلی کنکشن کاٹ دیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
کراچی کے اولڈ سٹی ایریا کاغذی بازار میں ایک اور عمارت مخدوش قرار دے دی گئی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) حکام عمارت خالی کروانے پہنچے تو علاقہ مکینوں نے احتجاج کیا۔
رہائشیوں نے عمارت خالی کرنے سے انکار کیا، 6 منزلہ عمارت کے گیس اور بجلی کے کنکشن کاٹ دیے گئے۔
لیاری میں گرنے والی عمارت کا مقدمہ درج، ایک ڈائریکٹر کے علاوہ تمام ملزمان گرفتارمقدمے میں ایس بی سی اے میں سال 2022 سے 2025 تک تعینات 6 ڈائریکٹرز، 2 ڈپٹی ڈائریکٹرز اور 3 بلڈنگ انسپکٹرز کو نامزد کیا گیا ہے
دوسری جانب کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن میں مخدوش عمارتوں سے متعلق اجلاس میں 7 علاقوں میں مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کی گئی۔
کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق پہلے مرحلے میں 125 مخدوش عمارتوں کی نشاندہی مکمل ہوچکی، دہلی کالونی میں 51، مدنی آباد میں 16، لوئر گزری میں 7 عمارت مخدوش قرار دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ چوہدری خلیق الزماں کالونی میں 5 اور پنجاب کالونی میں 14 عمارتیں مخدوش ہیں، پاک جمہوریہ کالونی میں 27 اور بخشن ولیج میں 5 عمارتیں مخدوش ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کالونی میں
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔