بلوچستان میں بھارتی پراکسیز دہشت گردی میں ملوث ہیں، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت)ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی میں بھارت کا ہاتھ نہایت واضح ہے، بھارت نے دنیا بھر میں دہشت گردی اور قتل عام کرانا شروع کررکھا ہے۔اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی پر بالکل شفاف ہے، بلوچستان میں بھارتی مداخلت ہے،بھارتی پراکسیز دہشت گردی میں ملوث ہیں، پاکستان بھارتی دہشت گردی کا معاملہ ہر عالمی فورم پر اٹھا رہا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں چیلنج ہیں، دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے معاملے پر افغانستان سے رابطے میں ہیں، امید ہے افغان حکومت مل کر چیلنج پر قابو پانے کی کوشش کرے گی۔شفقت علی خان نے کہا کہ ماضی میں جو کچھ ہوا وہ ہو چکا ہے، اس وقت کے رہنما ہی بتا سکتے ہیں کہ 80 کی دہائی میں کیا فیصلے ہوئے؟ ہمیں ماضی کا قیدی بننے کے بجائے مستقبل کی جانب دیکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں دہائیوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، بدقسمتی ہے کہ ابھی تک کشمیریوں کی مشکلات کم نہ ہو سکیں، مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوان کی توہین پر پاکستان کا موقف واضح ہے۔شفقت علی خان نے کہا کہ بلاول زرداری کے بیان کی وضاحت پیپلزپارٹی کے ترجمان ہی کرسکتے ہیں تاہم بلاول نے کسی رہنما کو بھارت کے حوالے کرنے پر کسی کا نام نہیں لیا، بھارتی مشیر قومی سلامتی نے حقائق کو توڑ مروڑ کر بیان دیا، بھارتی مشیر قومی سلامتی کا بیان بھارتی جارحانہ عزائم کی کا عکاس ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار کا ایس سی او سائیڈ لائنز میں بھارتی رہنما سے ملاقات کا ارادہ نہیں، دیگر شریک رہنماو¿ں سے اسحاق ڈار کی ملاقاتیں شیڈیول کی جارہی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 25 کروڑ افراد کی موت اور حیات کا مسئلہ ہے۔شفقت علی خان نے کہا کہ چین قریبی دوست، تائیوان پر پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، پاکستان برکس ممالک کی تنظیم میں شمولیت کا خواہاں ہے، برکس سے متعلق خبروں پر تبصرہ نہیں کر سکتے کیونکہ ابھی ہم رکن نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شفقت علی خان نے کہا کہ ترجمان دفتر خارجہ
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔