data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی میں بھارت کا ہاتھ نہایت واضح ہے، بھارت نے دنیا بھر میں دہشت گردی اور قتل عام کرانا شروع کررکھا ہے۔اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی پر بالکل شفاف ہے، بلوچستان میں بھارتی مداخلت ہے،بھارتی پراکسیز دہشت گردی میں ملوث ہیں، پاکستان بھارتی دہشت گردی کا معاملہ ہر عالمی فورم پر اٹھا رہا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں چیلنج ہیں، دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے معاملے پر افغانستان سے رابطے میں ہیں، امید ہے افغان حکومت مل کر چیلنج پر قابو پانے کی کوشش کرے گی۔شفقت علی خان نے کہا کہ ماضی میں جو کچھ ہوا وہ ہو چکا ہے، اس وقت کے رہنما ہی بتا سکتے ہیں کہ 80 کی دہائی میں کیا فیصلے ہوئے؟ ہمیں ماضی کا قیدی بننے کے بجائے مستقبل کی جانب دیکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں دہائیوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، بدقسمتی ہے کہ ابھی تک کشمیریوں کی مشکلات کم نہ ہو سکیں، مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوان کی توہین پر پاکستان کا موقف واضح ہے۔شفقت علی خان نے کہا کہ بلاول زرداری کے بیان کی وضاحت پیپلزپارٹی کے ترجمان ہی کرسکتے ہیں تاہم بلاول نے کسی رہنما کو بھارت کے حوالے کرنے پر کسی کا نام نہیں لیا، بھارتی مشیر قومی سلامتی نے حقائق کو توڑ مروڑ کر بیان دیا، بھارتی مشیر قومی سلامتی کا بیان بھارتی جارحانہ عزائم کی کا عکاس ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار کا ایس سی او سائیڈ لائنز میں بھارتی رہنما سے ملاقات کا ارادہ نہیں، دیگر شریک رہنماو¿ں سے اسحاق ڈار کی ملاقاتیں شیڈیول کی جارہی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 25 کروڑ افراد کی موت اور حیات کا مسئلہ ہے۔شفقت علی خان نے کہا کہ چین قریبی دوست، تائیوان پر پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، پاکستان برکس ممالک کی تنظیم میں شمولیت کا خواہاں ہے، برکس سے متعلق خبروں پر تبصرہ نہیں کر سکتے کیونکہ ابھی ہم رکن نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شفقت علی خان نے کہا کہ ترجمان دفتر خارجہ

پڑھیں:

اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے اور دنیا میں جاری بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے پاکستان کے مسلسل مصالحتی کردار اور امریکہ و ایران کے درمیان روابط و مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کو سراہااور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سفارتکاری اور مسلسل مذاکرات کو خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کا بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ دونوں جانب نے پاکستان اور کویت کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی بھی توثیق کی اور آئندہ بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بیلجیم میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نائب صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے مثبت نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے سفیر کو ہدایت کی کہ وہ اس دورے کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر عملدرآمد کی پیروی جاری رکھیں اور یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کیلئے کوششیں تیز کریں۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال