برطانیہ، ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین شدید بیمار، اسپتال میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ندن(مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین شدید علیل اور لندن کے اسپتال میں داخل ہیں، جہاں ان کے مختلف ٹیسٹ کیے گئے۔واضح رہے کہ الطاف حسین ایم کیو ایم کے بانی ہیں، جسے پہلے مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے جانا جاتا تھا، انہوں نے اردو بولنے والوں کی نمائندگی کے لیے ایک سیاسی جماعت کا آغاز کیا، الطاف حسین اس وقت لندن میں مقیم ہیں، جہاں وہ 1992 سے خود ساختہ جلاوطنی کاٹ رہے ہیں،
بعد ازاں انہیں برطانوی شہریت مل گئی تھی، لندن سے الطاف حسین نے سیاست میں فعال کردار ادا کیا، وہ باقاعدگی سے کراچی میں اپنے کارکنان سے خطاب کرتے تھے۔لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفی عزیزآبادی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ ایم کیو ایم کے بانی و قائد الطاف حسین کو شدید علالت کے باعث لندن کے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کے مختلف ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔انہوں نے عوام سے ایم کیو ایم کے بانی کی صحتیابی کے لیے دعا کی اپیل کی۔دریں اثنا، ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کی طبیعت گزشتہ رات بگڑی اور ڈاکٹر کے معائنے اور سفارش پر انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا، ڈاکٹروں نے مختلف ٹیسٹ کروائے۔میڈیا کے ساتھ گفتگو میں مصطفی عزیز آبادی نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین زیر علاج ہیں اورامید ہے کہ یہ کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے۔یاد رہے کہ الطاف حسین فروری 2021 میں بظاہر کووڈ 19 سے متاثر ہونے کے بعد برطانیہ کے ایک اسپتال میں انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں زیر علاج رہے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کے بانی اسپتال میں داخل الطاف حسین
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔