حمیرا اصغر کے تین موبائل، ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ سے اہم ڈیٹا مل گیا، تازہ انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں اپنے فلیٹ میں مردہ پائی جانے والی اداکارہ حمیرا اصغر کے کیس میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ان کے استعمال شدہ الیکٹرانک آلات سے ڈیٹا اکٹھا کرلیا ہے۔
تفتیشی ٹیم نے حمیرا کے تین موبائل فونز، ایک ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ تک رسائی حاصل کرلی، جن کے پاسورڈز ان کی ڈائری میں محفوظ تھے۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے اس ڈیٹا کی مدد سے مزید سراغ حاصل کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ اس سلسلے میں دو افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید دو افراد سے پوچھ گچھ کے لیے انہیں طلب کیا گیا ہے۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ حمیرا اصغر باقاعدگی سے جِم اور بیوٹی پارلر جایا کرتی تھیں، اس لیے ان کے جِم ٹرینر اور دیگر متعلقہ افراد سے بھی معلومات لی جائیں گی۔
پولیس نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ مرحومہ اداکارہ کا کچھ مخصوص افراد سے مسلسل رابطہ رہتا تھا، جن کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے بینک اکاؤنٹس کی بھی جانچ پڑتال جاری ہے تاکہ کسی بھی مشتبہ لین دین یا مالی معاملات کی نشاندہی کی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔