data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر(نمائندہ جسارت )ممتاز سیاسی کاروباری شخصیت ،سابق صدر خدمت کمیٹی ضلع سکھر عبدالقیوم قریشی نے اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مینارہ روڈ سکھر جیم خانہ کے قریب قائم ان کے پٹرولیم اور سی این جی اسٹیشن پر میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے پولیس کے ساتھ مل کر غیر قانونی طور پر قبضہ کر لیا ہے، حالانکہ سندھ ہائی کورٹ میں اس کیس کی سماعت جاری ہے جس کی اگلی تاریخ 20 اگست 2025 مقرر ہے اس کے باوجود میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے غیر قانونی کارروائی کرتے ہوئے عدالت کی توہین کی ہے۔عبدالقیوم قریشی نے مزید کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی ان پر کوئی بقایا رقم نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کے 1968 میں قانونی طور پر میونسپل کارپوریشن سے پلاٹ کرائے پر لیا تھا اور چار کروڑ روپے خرچ کر کے پٹرول پمپ تعمیر کروایا تھا۔ اس کے بعد وہ ہر سال کرایہ بھی ادا کرتے رہے ہیں جسکا تمام ریکارڈ موجود ہے۔ چند سال قبل میونسپل کارپوریشن سکھر کے ایک ایڈمنسٹریٹر نے ان سے ایک کروڑ روپے رشوت مانگی تھی جو نہ دینے پر پٹرول پمپ بند کر دیا گیا، اس معاملے کا کیس سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں چل رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میونسپل کارپوریشن

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا