اسرائیل میں نیتن یاہو حکومت کے خلاف مظاہرے، غزہ جنگ بندی کا مطالبہ زور پکڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
اسرائیل میں غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی واپسی کے مطالبے پر ہزاروں شہریوں نے تل ابیب میں فوجی ہیڈکوارٹرز کے سامنے مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے وزیراعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور فوری جنگ بندی معاہدہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ سیاسی مفادات کی خاطر جاری جنگ کا انجام صرف تباہی اور انسانی المیہ ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، وزیراعظم نیتن یاہو نے ممکنہ جنگ بندی ڈیل پر بات چیت کے لیے اپنی حکومت کے دائیں بازو کے اتحادی رہنماؤں ایتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ کو طلب کر لیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کے اندر اور باہر سے نیتن یاہو پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ حماس کے ساتھ جنگ بندی کے لیے پیش رفت کرے اور یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی واپسی ممکن بنائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا
پروپیگنڈا اور گمراہ کن دعوؤں کے برعکس بھارتی نوجوان نے شکست خوردہ مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔
دہلی میں بھارتی مظاہرین نے آپریشن سندور میں شکست اورناکامی کو چھپانے کیلئےفوجیوں کی ہلاکت کو دبانے کے پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی۔ دہلی میں مظاہرین نے تشدد کرنےوالے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کر کے کہاکہ حکومت نے آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اور ان کی قربانیوں کو عوام سے چھپایا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جو حکومت اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کرے، وہ کسی بھی اہلکار کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے ، حکومت کو پولیس اور فوجی جوانوں کی زندگیوں اور قربانیوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔
آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کے نام اور قربانیوں کو حکومتی سطح پر نظر انداز کیا گیا، تم حکومت کا ساتھ دیتے ہو،لیکن یہی حکومت تمہاری موت کے بعد تمہاری شناخت تک چھپا دیتی ہے۔
بھارتی عوام کا مودی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پوسٹر پھاڑ رہے ہیں اور ان کی تصویر پر چپلیں برسا رہے ہیں۔