فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ انڈونیشیا کے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں؟معروف صحافی نجم سیٹھی کا اہم تجزیہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف صحافی اور سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ انڈونیشیا کو اہم قرار دیدیا۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے پروگرام سیٹھی سے سوال میں اینکرپرسن سیدہ عائشہ نازنے سوال کیا کہ ’’سری لنکا کے دورے کے بعد فیلڈ مارشل انڈونیشیا بھی جا رہےہیں،انڈونیشیا کے وزٹ کو آپ کیسے دیکھیں گے۔
سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہاکہ بہت اہم!دیکھیےانڈونیشیا بہت اہم اور سب سے زیادہ آبادی والا مسلم ملک ہے،انڈنیشیا ایک ایسے خطے میں ہے جہاں آسٹریلیا اور امریکا وغیرہ بہت حاوی ہیں،سب سے دلچسپ بات یہ ہے انڈونیشیا کے اندر اسرائیل کیخلاف ایک بہت مضبوط رائے ہے ،لوگ یہ کہتے ہیں کہ سعودیہ بھی اسرائیل کو تسلیم کرلے تو انڈونیشیا نہیں کرے گا۔
نئے اور جدید ڈیزائن کے کرنسی نوٹوں کا اجرا، حقیقت کیا ہے؟
سینئر تجزیہ کار کاکہناتھا کہ پاکستان کیلئے بھی اسی قسم کا مسئلہ ہے،کیونکہ عوام اسرائیل اورامریکا کے سخت خلاف ہیں ،پاکستان کیلئےسعودی عرب کو جوائن کرنا مشکل ہوگا، سعودی عرب کو ان سب کی ضرورت ہے،سعودی عرب چاہتا ہے کہ یہ ممالک ان کے پیچھے ہوں اگر وہ کوئی قدم اٹھاتا ہے،وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور ترکی ان کے پیچھے ہوں،نجم سیٹھی نے کہاکہ ترکی کاتو کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم کر چکا ہے،مصر، اردن اور گلف ممالک کا بھی مسئلہ نہیں ہے، اگر کوئی مسئلہ ہے تو پاکستان اور انڈونیشیا کاہے،میرا خیال ہے کہ پس پردہ یہ بحث ہو رہی ہوں گی کہ ہم نے کیا کرنا ہے،اگر ایسی صورتحال ہوتی ہے تو ہم کیا کریں گے،میرا خیال ہے کہ فیلڈ مارشل کا انڈونیشیا کا دورہ بہت اہم ہے۔
حمیرا اصغر کی موت کیسےہوئی ؟پولیس کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل
معروف صحافی نے کہاکہ دوسری بات یہ ہے کہ انڈونیشیا نے فرانس کو رافیل کیلئے اربوں ڈالرز کا آرڈر دیا ہواہے،اس پر دستخط تو ہو گئے تھے مگر ابھی مکمل تفصیلات نہیں آئی،پاک بھارت جنگ میں انڈونیشیا نے دیکھا ہے کہ پاکستان نے چائینز جیٹس کے ساتھ جس کی قیمت رافیل کی چوتھائی ہے،نے اتنا کچھ کرلیا ہے ،تو انڈونیشیا کابھی سرچکرا گیا ہے،وہ سوچوں میں پڑ گئے ہیں کہ ہم رافیل لیں یا نالیں۔
نجم سیٹھی کاکہناتھا کہ ہم بھی جے10ایکسپورٹ کررہے ہیں،ہم نے سنٹرل ایشیا کو ایکسپورٹ کئے ہیں،ہمارے بھی بہت بڑے پلانٹ بن گئے ہیں یا بنا رہے ہیں،یہ بالکل ممکن ہے کہ فیلڈ مارشل صاحب جائیں اور کہیں کہ چھوڑو رافیل ،ہم آپ کو جے 10دیتے ہیں،ہم آپ کو تمام میزائل دیتے ہیں،ہم آپ کی ٹریننگ کرتے ہیں،وہ بھی رافیل کی قیمت کے چوتھائی میں،میراخیال ہے کہ اس طرح کی چیزیں ٹیبل پر ہوں گی۔
گنڈاپور بتائیں وہ کس کے این او سی پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ بنے؟ حافظ حمداللہ
ان کاکہناتھا کہ ایک اور بھی بڑاایشوہے وہ برکس کا بھی،کواڈکا بھی،انڈونیشیا کو چاہتے ہیں کہ وہ برکس میں آئے اور انڈونیشیا برکس میں آنا بھی چاہتا ہے،میرا خیال ہے اس قسم کے ایجنڈے آئٹمز ہیں،اور اس کے علاوہ ورلڈآرڈر جو بننے جا رہا ہے،چائنا نے پاکستان کو آگے رکھا ہے،باقی ایشوز بھی بڑے اہم ہیں، برکس، رافیل، اسرائیل۔
نجم سیٹھی کے مطابق عاصم منیر کے دورہ انڈونیشیا کے تین مقاصد ہیں ۔۔۔۔۔
❗️اسرائیل کو تسلیم کرنا ۔
❗️انڈونیشیا کی برکس میں شمولیت ۔
❗️انڈونیشیا کو J 10C طیاروں کی فروخت ۔
حافظ صاحب ٹرمپ کو وچن دے آئے ہیں کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کریں گے حافظ صاحب اس کے لیے خود لابنگ کر رہے ہیں ۔۔ pic.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اسرائیل کو تسلیم انڈونیشیا کے فیلڈ مارشل نجم سیٹھی ہیں کہ ہیں ہم
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔