وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ 13 جولائی 1931ء کے 22 شہداء سمیت ہر کشمیری شہید کو سلام جو ظلم کے خلاف حق کی صدا بنے، بھارتی قابض افواج آج کشمیرمیں ڈوگرہ راج کے مظالم دہرا رہی ہیں۔یوم شہداء کشمیر پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا تھ کہ کشمیر کے شہداء نے 1931 میں ڈوگرہ راج کو للکارا آج بھارتی قابض فوج انہی مظالم کی داستان دہرا رہی ہے، ڈوگرہ راج ہو یا آج کی ظالم بھارتی فوج، کشمیریوں کے حوصلے کو کبھی شکست نہیں دے سکے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے شہداء کی قربانیاں بتاتی ہیں کہ زنجیریں کبھی حوصلے کو قید نہیں کر سکتیں، کشمیر کی مٹی میں حریت، وفا اور قربانی کی خوشبو رچی بسی ہے، یومِ شہداء کشمیر صرف محض ایک دن نہیں بلکہ یہ اقوام متحدہ اور پوری امت مسلمہ کے ضمیر کو جگانے کی صدا ہے۔مریم نوازکا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا مسئلہ کشمیر کے حل پر حالیہ بیان حوصلہ افزا ہے، پاکستان ہر فورم پر کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، کشمیری شہداء کی قربانیوں نے دنیا کو بتا دیا کہ کوئی جبر، کوئی طاقت اُنکو غلام نہیں رکھ سکتی۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کی ہر ایک تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتی ہے، ان کے دُکھ کو اپنا دُکھ سمجھتے ہیں، پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر کے حق خودارادیت کی جدوجہد میں اُن کے ساتھ کھڑا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ڈوگرہ راج کشمیر کے

پڑھیں:

گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف

گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20  گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف