ایشین یوتھ چیمپیئن شپ میں پہلی پوزیشن لینے کا دعویٰ کیوں کیا؟ پاکستان نیٹ بال فیڈریشن سے وضاحت طلب
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
ایشین یوتھ نیٹ بال چیمپیئن شپ 2025 میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کا دعویٰ کرنے پر پاکستان نیٹ بال فیڈریشن سے وضاحت طلب کرلی گئی ہے۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے پاکستان نیٹ بال فیڈریشن (پی این ایف) سے ایونٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے گولڈ میڈل جیتنے کا تاثر دینے پر 3 دنوں کے اندر وضاحت طلب کرلی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایشین گرلز یوتھ نیٹ بال چیمپیئن شپ میں پاکستانی فتح معمہ، وزیراعظم کی مبارکباد کے پیغام پر ایکس کا نوٹس
اس کے علاوہ پی این ایف کے صدر مدثر آرائیں کی جانب سے میڈیا میں گولڈ میڈل جیتنے کا تاثر دینے اور کیش انعامات کے لیے درخواست دینے پر بھی اظہار افسوس کیا گیا۔
Shabash ????????
Pakistan ???????? wins the Asian Youth Girls Netball Championship 2025.
A proud moment for the entire nation and yet another great milestone for ????????women in sports!
Special appreciation for staying undefeated throughout the tournament!
Very well played!
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) July 4, 2025
واضح رہے کہ پی ایس ایف کی جانب سے ایونٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے دعوے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مبارکباد کا پیغام دیا گیا تھا تاہم بعد میں خبر درست نہ ہونے پر ایکس نے مذکورہ پوسٹ پر کمیونٹی نوٹس جاری کردیا تھا جس کے مطابق ‘پاکستان دراصل چھٹے نمبر پر رہا۔ ٹورنامنٹ 2 ڈویژن یعنی کپ اور پلیٹ میں منعقد ہوا۔ پاکستان پلیٹ ڈویژن میں تھا جو چیمپئن شپ کا حصہ ہی نہیں تھا۔
پاکستان نیٹ بال فیڈریشن نے ایونٹ کے فائنل میں پاکستان کی فتح کی باقاعدہ پریس ریلیز جاری کی جس کے مطابق ایونٹ کے فائنل میں پاکستان نے مالدیپ کو 35کے مقابلے میں 60 پوائنٹس سے شکست دی۔ اسی پریس ریلیز کے مندرجات میں فیڈ ریشن کے چیئرمین، صدر اور سیکریٹری کی طرف سے ٹیم کو مبارکباد بھی پیش کی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کھیل نیٹ بال فیڈریشن وزیر اعظم وضاحت طلب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کھیل نیٹ بال فیڈریشن میں پہلی پوزیشن
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔