بنگلہ دیش طیارہ حادثہ: ہلاکتوں کی تعداد 27 ہو گئی ، آج ملک گیر سوگ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 22 جولائی 2025ء) پیر کے روز ڈھاکہ میں میل اسٹون اسکول اینڈ کالج کے کیمپس کے اندر فضائیہ کے طیارے کے گرنے کے بعد حکومت آج بنگلہ دیش کی قومی یوم سوگ منا رہی ہے۔
اس موقع پر ملک بھر کے تمام سرکاری، نیم سرکاری، خود مختار اداروں اور تعلیمی اداروں میں بنگلہ دیش کا قومی پرچم سرنگوں ہے۔ بیرون ملک بنگلہ دیشی مشنز کو بھی ایسی ہی ہدایات دی گئی ہیں۔
جب کہ جاں بحق اور زخمیوں کے لیے عبادت گاہوں میں خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں۔خیال رہے کہ بنگلہ دیش کی فضائیہ کا ایک طیارہ کل دوپہر 1:30 بجے کے قریب فضا سے گرا اور اترا میں اسکول کے دیاباری کیمپس میں ٹکرا گیا۔ طیارے میں آگ لگنے سے پائلٹ سمیت کم از کم 27 افراد ہلاک ہو گئے۔
(جاری ہے)
ہلاک ہونے والوں میں 25 بچے شامل ہیں۔ ان کے علاوہ 78 افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
اب تک 20 لاشیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہمیل اسٹون اسکول اور کالج کے طلباء نے آج صبح ڈھاکہ کے اترا میں اپنے کیمپس میں مظاہرہ کیا، اور اترا میں طیارے کے حادثے کے متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔
آج صبح مشیر تعلیم پروفیسر سی آر ابرار اور قانون کے مشیر آصف نذر کیمپس کا دورہ کرنے آئے تو طلبہ نے انہیں گھیر لیا، حادثے کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت پر لاپرواہی کا الزام لگایا۔
دونوں مشیروں نے بعد میں کالج کے اساتذہ اور طلباء کے پانچ سے سات نمائندوں کے ساتھ بند کمرے کی میٹنگ کی۔ اس دوران باہر کھڑے سینکڑوں طلبہ نعرے لگا رہے تھے۔
طلباء نے مطالبہ کیا ہے کہ مرنے والوں کے ناموں اور شناختوں کی درست اشاعت ہو، زخمیوں کی مکمل اور تصدیق شدہ فہرست شائع کی جائے، ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے معاوضہ کا اعلان کیا جائے، اور بنگلہ دیشی فضائیہ کے زیر استعمال پرانے اور غیر محفوظ تربیتی طیاروں کو فوری طور پر ترک کیا جائے۔
اس دوران کالج کے ارد گرد صبح سے ہی لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی رہی۔ بہت سے لوگ لاپتہ طلباء یا رشتہ داروں کی تلاش میں آئے تھے۔
حکومت پر ہلاکتوں کی تعداد چھپانے کا الزاممحمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت نے طیارہ حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد چھپانے کے دعوؤں کی مذمت کی ہے۔
چیف ایڈوائزر محمد یونس کے پریس ونگ نے آج کہا کہ بعض حلقے یہ دعویٰ کرتے ہوئے پروپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں کہ ڈھاکہ کے میل اسٹون اسکول اور کالج میں طیارے کے حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق معلومات کو چھپایا جا رہا ہے۔
پریس ونگ نے ایک بیان میں کہا کہ ''ہم سخت الفاظ میں بتانا چاہتے ہیں کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں سے ہر ایک کے لیے حکومت کی جانب سے ہر قسم کی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ تمام مرنے والوں کے ناموں اور شناختوں کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جن لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ملاپ کیا جا رہا ہے۔
پریس ونگ نے کہا کہ حکومت، فوج، اسکول اور اسپتال کے حکام اس افسوسناک واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی مکمل اور درست فہرست شائع کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
عالمی رہنماؤں کا اظہار تعزیتاقوام متحدہ اور یورپی یونین نے ڈھاکہ کے اترا میں واقع میل اسٹون اسکول اینڈ کالج میں بنگلہ دیشی فضائیہ کے تربیتی طیارے کے گر کر تباہ ہونے سے ہونے والی ہلاکتوں پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
اس کے علاوہ بھارت، پاکستان اور جاپان نے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ڈھاکہ میں المناک طیارہ حادثے میں متعدد طلبہ کی ہلاکت پر انہیں صدمہ پہنچا ہے۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ایکس پر پوسٹ کیے گئے ایک پیغام میں کہا کہ وہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
یورپی یونین کے بنگلہ دیش مشن نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ مرنے والوں، ان کے اہل خانہ اور زخمیوں کے ساتھ ہیں۔
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ہونے والوں بنگلہ دیش اترا میں کا اظہار طیارے کے والوں کے ہلاک ہو میں کہا کالج کے
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور