غزہ میں نسل کشی پر خاموش رہنے والا شریکِ جرم ہے، ترک صدر رجب طیب ایردوان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ جو بھی غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی پر خاموش ہے، وہ انسانیت کے خلاف جرائم میں شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ظلم نازیوں کی بربریت سے بھی بدتر ہے، ترکیہ دنیا کے ہر فورم پر غزہ میں ہونے والے مظالم کو اجاگر کرتا رہے گا۔
صدر ایردوان نے یہ بات بین الاقوامی دفاعی صنعت میلہ (IDEF) 2025 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے ترکیہ کی دفاعی خودمختاری، خارجہ پالیسی اور عالمی مسائل پر ترکی کے مؤقف پر روشنی ڈالی۔
غزہ کی صورتحال، انسانیت کا امتحانترک صدر نے غزہ میں انسانی بحران پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ترجیح فوری جنگ بندی ہے، اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ غزہ کے وہ بچے جو فاقہ کشی کی وجہ سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکے ہیں، وہ ہمارے بچے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے مسلمانوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت، ایران پر اسرائیلی حملہ قابل مذمت ہے، ترک صدر کا او آئی سی اجلاس سے خطاب
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ انسانیت کے ساتھ کھڑی ہو اور بھوک و پیاس سے مرنے والے معصوم فلسطینیوں کی مدد کرے۔
’جس کے دل میں انسانیت کی رمق بھی ہے، وہ اس ظلم پر خاموش نہیں رہ سکتا۔‘
ترکیہ کی دفاعی صنعت میں خود کفالتایردوان نے کہا کہ ترکیہ کی دفاعی صنعت نہ صرف ترقی کر رہی ہے بلکہ ملک خود انحصاری اور آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
’ہم ایک ایسی قوم کا سفر دیکھ رہے ہیں جو اپنے آسمان کے نیچے، اپنے پروں پر اُڑ رہی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ترکیہ نے پابندیوں، دوہرے معیار اور سفارتی دباؤ کے باوجود اپنی دفاعی قوت کو عالمی سطح پر منوایا ہے۔
صدر ایردوان کی تقریر کے اہم نکات
دفاعی صنعت میں مقامی پیداوار کا تناسب 80 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے۔
گزشتہ سال دفاعی و ہوابازی کی برآمدات میں 29 فیصد اضافہ ہوا، جو $7.
جون 2025 میں دفاعی برآمدات میں 10.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے ترکیہ صدر ایردوان کا جنرل اسمبلی سے خطاب میں مسئلہ فلسطین کے حل پر زور
آئندہ کے لیے ترجیحات میں مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی، خودکار نظام اور الیکٹرو میگنیٹک ہتھیار شامل ہیں۔
تاریخی پس منظر اور تجرباتایردوان نے یاد دلایا کہ ترکیہ کو ماضی میں کئی مواقع پر ’دوستی کے دعوے دار ممالک‘ سے دھوکہ ملا۔
1960 کی دہائی میں قبرص بحران کے دوران اور 1990 میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مناسب حمایت نہ ملی۔
1974 کی قبرص امن کارروائی کے بعد سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔
شام کے ساتھ کشیدگی کے دوران فضائی دفاعی نظام ہٹا لیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ان تجربات سے سیکھا، اور آج ترکی اپنی ٹیکنالوجی، اپنے سائنسدانوں اور اپنے نظریے کے ساتھ کھڑا ہے۔
دفاعی نمائش IDEF 20256 روزہ نمائش استنبول میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں ترکیہ کی تیار کردہ بکتر بند گاڑیاں، غیرمسلح و مسلح ڈرونز، راکٹ سسٹمز، ہتھیار، میزائل، جنگی آلات، اور سائبر دفاعی نظام کی نمائش ہو رہی ہے۔
یہ میلہ ترکیہ کی صدارت، وزارت دفاع، دفاعی صنعتوں کے محکمے اور مسلح افواج فاؤنڈیشن کی نگرانی میں ہو رہا ہے۔اس موقع پر سینکڑوں معاہدے متوقع ہیں جبکہ شرکاء کی بڑی تعداد موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ترک دفاعی صنعت ترک صدر رجب طیب ایردوان غزہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ترک دفاعی صنعت ترک صدر رجب طیب ایردوان دفاعی صنعت ایردوان نے ترکیہ کی انہوں نے نے کہا کہا کہ رہی ہے
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش