خیبر پختونخوا حکومت کی امن و امان پر آل پارٹیز کانفرنس طلب
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے تمام سیاسی جماعتوں اور مختلف مکاتبِ فکر کو باضابطہ دعوت نامے ارسال کر دیے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر 24 جولائی کو آل پارٹیز کانفرنس طلب کرلی ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے تمام سیاسی جماعتوں اور مختلف مکاتبِ فکر کو باضابطہ دعوت نامے ارسال کر دیے ہیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں قیامِ امن سب کی مشترکہ ذمے داری ہے اور ہمیں اختلافات سے بالاتر ہوکر امن کے لیے اکٹھا ہونا ہوگا۔ علی امین گنڈاپور نے ملک میں جاری صورتحال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انصاف کا جنازہ نکالا جا چکا ہے، اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو دی جانے والی سزائیں آئین و قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر بے گناہ رہنماؤں کو سزا دیے جانے کو ظلم قرار دیا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے واضح کیا کہ ہر ظلم کی رات ختم ہوتی ہے، حق کی فتح یقینی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے تھے، ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی اصولی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہیں اور تاریخ ان فیصلوں کو معاف نہیں کرے گی، آخر میں وزیراعلیٰ نے نعرہ بلند کیا، ’بانی پی ٹی آئی زندہ باد، پاکستان پائندہ باد‘۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔