دیرپا کیمیکل سے ذیابیطس کا خطرہ 31 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
حالیہ سائنسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ دیرپا کیمیکل (پرفلوروالکائل اور پولی فلوروالکائل سبسٹینسز)، جنہیں ’فورایور کیمیکلز‘ کہا جاتا ہے، کے زیادہ استعمال سے ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیمیکل جسم کے میٹابولزم کو متاثر کرتے ہیں اور بلڈ شوگر ریگولیشن میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ فورایور کیمیکلز کو روزمرہ کی اشیا جیسے نان اسٹک کوک ویئر، فوڈ پیکجنگ اور کپڑوں کو داغ سے محفوظ کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 26 منرل واٹر برانڈز انسانی صحت کے لیے غیرمحفوظ قرار
اس تحقیق کے دوران ماہرین نے حال ہی میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار 180 افراد کے خون کے نمونوں کا موازنہ 180 صحت مند افراد سے کیا۔ نتائج کے مطابق، جب فورایور کیمیکلز کی سطح کم سے معتدل اور پھر معتدل سے زیادہ ہوئی تو ذیابیطس کے امکانات میں 31 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔
مزید میٹابولک ٹیسٹنگ سے اس ممکنہ تعلق کی وجوہات بھی سامنے آئیں۔ محققین نے بتایا کہ دیرپا کیمیکل جسم میں امینو ایسڈز، جو پروٹین کے بنیادی اجزا ہیں، کی تیاری اور دواؤں کے انہضام کے عمل کو متاثر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پلاسٹک انسانی صحت اور قدرتی ماحول کس طرح تباہ کر رہاہے؟
تحقیق کے سینیئر مصنف کے مطابق بڑھتی ہوئی ہوئی سائنسی شواہد سے پتا چلتا ہے کہ فارایور کیمیکل کئی دائمی بیماریوں، جیسے موٹاپا، جگر کی بیماری اور ذیابیطس، کے خطرے کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ نتائج دیرپا کیمیکل سے بچنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں تاکہ عوامی صحت کو فروغ دیا جاسکے۔
دریں اثنا، PFAS پر پابندی کے معاملے کو اقوامِ متحدہ کے مجوزہ پلاسٹک معاہدے میں شامل کرنے پر عالمی سطح پر غور جاری ہے۔ اس معاہدے پر بات چیت رواں سال اگست میں جنیوا میں متوقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسانی صحت پرفلوروالکائل اور پولی فلوروالکائل سبسٹینسز تحقیق خطرہ دیرپا کیمیکل ذیابیطس فور ایور کیمیکلز ماہرین صحت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دیرپا کیمیکل ذیابیطس ماہرین صحت دیرپا کیمیکل
پڑھیں:
سیالکوٹ میں نالہ ایک کا بند ٹوٹ گیا، دھان کی سینکڑوں ایکڑ فصل کو خطرہ
میاں محمد اشفاق: سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال میں ڈھلم بلگن کے مقام پر نالہ ایک کا بند ٹوٹنے سے پانی قریبی زرعی اراضی میں داخل ہو گیا، جس کے باعث دھان کی سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصل کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
مقامی شہریوں کے مطابق پانی تیزی سے کھیتوں میں پھیل رہا ہے، جبکہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بند مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تاحال انتظامیہ یا متعلقہ محکموں کا کوئی اہلکار امدادی کارروائی کے لیے موقع پر نہیں پہنچا۔
کسانوں اور علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بند کی فوری مرمت اور ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ زرعی زمینوں اور فصلوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
آج شام و رات سے 27 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی