دہشتگرد گروپس افغانستان سے آپریٹ ہورہے ہیں، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ 40 کے قریب دیشتگرد گروپس افغانستان سے آپریٹ ہورہے ہیں جن کے پاس ملین ڈالرز کا امریکی اسلحہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان سے دہشتگردی کے ثبوت موجود، دشمن کے ٹھکانوں پر کارروائی ہمارا حق ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 20 سال سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہا ہے، پاکستان عالمی سطح پر دہشتگردوں کے راستے کا مضبوط مورچہ ہے، اگر یہ مورچہ کمزور ہوا تو دہشتگردی کی آگ سے پورا خطہ غیر محفوظ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 40 کے قریب دہشتگرد گروپ افغانستان سے آپریٹ ہورہے ہیں، امریکی فورسز کے انخلا کے بعد اربوں ڈالرز کا اسلحہ ان دہشتگرد گروپس کے ہاتھوں میں ہے، یہ دہشتگرد نہ صرف ہتھیاروں سے لوگوں کو مار رہے ہیں بلکہ یہ اس کے لیے ڈیجیٹل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی استعمال کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کے مقابلے کے لیے بیرونی ہاتھوں سے ہوشیار رہیں گے، پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان اتفاق
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشتگردی سے منسلک سینکڑوں اکاؤنٹس کا پتا لگایا ہے، آزادی اظہار کو خاموش نہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف دیوار بنا رہے ہیں، ان دہشتگرد گروپس نے اے آئی مرر اکاؤنٹس بھی بنارکھے ہیں، جب ہم ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کرتے ہیں تو یہ منٹوں میں مرر اکاؤنٹس پر ایکٹو ہوجاتے ہیں
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news افغانستان پاکستان دہشتگرد گروپس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان پاکستان دہشتگرد گروپس دہشتگرد گروپس افغانستان سے دہشتگردی کے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔