چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ساحر شمشاد سے تاجک جنرل کی ملاقات، دفاعی تعاون پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
سٹی 42 : چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ساحر شمشاد سے تاجک چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات ہوئی، جس میں ریجنل سیکیورٹی اور دفاعی تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹر آمد پر معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
ملاقات میں پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کے عزم کا اعادہ کیا گیا، ساتھ ہی پاکستان اور تاجکستان کے عسکری تعلقات میں مزید بہتری پر اتفاق بھی کیا گیا۔
دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند, الرٹ جاری
تاجک جنرل نے پاک افواج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
سورس : آئی ایس پی آر
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔