صفر المظفر 1447 ہجری کا چاند نظر نہیں آیا، یکم صفر 27 جولائی کو ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
صفر المظفر 1447 ہجری کا چاند نظر نہیں آیا اس لیے اتوار یکم صفر 27 جولائی کو ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کا چاند و مریخ پر رابطوں کا نیا جال بچھانے کا منصوبہ، امریکی کمپنیوں سے تجاویز طلب
اس بات کا اعلان جمعے کو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا محمد عبدالخبیر آزاد نے کیا جنہوں نے وزارت مذہبی امور اسلام آباد میں رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔
ملک بھر میں زونل اور ضلعی رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس اپنے اپنے متعلقہ مقامات پر ہوئے۔ کہیں سے چاند کے نظر آنے کی شہادت موصول نہیں ہوئی۔
مزید پڑھیے: ’بک مون‘ کے ساتھ سرخی مائل چاندنی رات کا نظارہ
اس بناء پر مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا کہ یکم صفر 27 جولائی 2025 کو ہوگی۔ وزارت مذہبی امور نے صفر المظفر کے آغاز کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد صفر کا چاند یکم صفر 27 جولائی کو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر ا زاد صفر کا چاند یکم صفر 27 جولائی کو یکم صفر 27 جولائی رویت ہلال کمیٹی کا چاند
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔