اسحاق ڈار کی مارکو روبیو سے کن امور پر بات ہوئی؟ امریکی محکمہ خارجہ کا اعلامیہ سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
امریکی محکمہ خارجہ نے پاک امریکا وزرائے خارجہ ملاقات کے حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خطے میں استحکام اور ایران کے ساتھ مکالمے میں ثالث کا کردار ادا کرنے پر پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے پاک امریکا وزرائے خارجہ ملاقات کے حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق پاکستان کا ایران کے ساتھ مکالمے میں ثالث کا کردار قابل تعریف ہے، پاکستان نے خطے میں استحکام کے لیے کردار ادا کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا بتانا ہے کہ اسحاق ڈار مارکو روبیو ملاقات میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دوطرفہ تعاون بڑھانے پر بات ہوئی، داعش خراسان کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اگست میں اسلام آباد میں پاک امریکا انسداد دہشت گردی مذاکرات ہوں گے۔ وزرائے خارجہ کی ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا گیا، ڈار روبیو ملاقات میں معدنیات اور مائننگ سیکٹر میں تعاون کے امکانات پر بھی بات ہوئی۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تھی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی محکمہ خارجہ خارجہ مارکو روبیو
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔