رواں سال کمرشل گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
معاشی بہتری اور ترقیاتی سرگرمیوں سے کمرشل گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔پاکستان آٹو مینوفیکچرز ایسوسی ایشن(پاما) کے مطابق رواں سال جونمیں بسوں اور ٹرکوں کی فروخت 41 ماہ کی بلند ترین سطح پرجب کہ بسوں اور ٹرکوں کی فروخت 737 یونٹس تک پہنچ گئی، اسی طرح بسوں اور ٹرکوں کی فروخت جنوری 22ء میں 778 یونٹس رہی تھی ۔پاما رپورٹ میں بتایا گیا کہ مارچ 18ء میں بسوں اور ٹرکوں کی فروخت 1 ہزار 26 یونٹس کے مقابلے میں حالیہ فروخت 28 فیصد کم ہے۔دوسری جانب آٹو ماہرین کا کہنا ہے کہ بسوں اورٹرکوں کی فروخت میں اضافہ صنعتی سرگرمیوں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں بہتری کااشارہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بسوں اور ٹرکوں کی فروخت
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔