غزہ کی صورتحال پر مصر، ترکیہ اور فرانس کے درمیان مشاورت
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
مصری صدر سے اپنی ایک ٹیلیفونک گفتگو میں امانوئل میکرون کا کہنا تھا کہ ہم یہ قبول نہیں کر سکتے کہ بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ بھوک سے مریں۔ اسلام ٹائمز۔ فرانس کے صدر "امانوئل میکرون" نے اپنے تُرک ہم منصب "رجب طیب اردگان" اور مصری صدر "عبد الفتاح السیسی" سے ٹیلیفونک بات کی۔ جس میں انہوں نے آئندہ ہفتے نیویارک میں فلسطین-اسرائیل تنازعہ کے حل کے لئے دو ریاستی فارمولا کے سلوگن کے ساتھ منعقد ہونے والی کانفرنس کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ فرانسوی صدر نے رجب طیب اردگان کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی، جس میں انہوں نے لکھا کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کی امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ دوسری جانب عبد الفتاح السیسی کے ساتھ فون کال کے بعد فرانسوی صدر نے کہا کہ ہم یہ قبول نہیں کر سکتے کہ بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ بھوک سے مریں۔
واضح رہے کہ صیہونی رژیم نے 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک غزہ کی مظلوم عوام کے خلاف بارھا نہتے شہریوں کے خلاف منظم جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ ان جرائم میں رہائشی عمارات، اسکولوں، ہسپتالوں، پناہ گزین کیمپوں اور حال ہی میں امریکہ و اسرائیل کی نگرانی میں چلنے والے نام نہاد انسانی امداد کے مراکز پر جان بوجھ کر حملے شامل ہیں۔ قبل ازیں جمعرات کی شب امانوئل میکرون نے کہا کہ فرانس، فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرے گا اور ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں باضابطہ طور پر اس فیصلے کا اعلان کرے گا۔ اس حوالے سے انہوں نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ٹویٹ کی کہ امن ممکن ہے اور پیرس نے یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار و منصفانہ امن کے لیے اپنی تاریخی وابستگی کی وجہ سے کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔