اسماعیل بقائی نے حنظلہ کشتی پر اسرائیلی حملے کو بحری قزاقی قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ فوری طور پر غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے، بلا روک ٹوک انسان دوست امداد پہنچائی جائے اور امداد کی تقسیم صرف بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ طریقہ کار کے تحت ہو۔ اسلام ٹائمز۔ آج اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان "اسماعیل بقائی" نے اسرائیل کی بحری جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی، جس میں صیہونی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کے لیے انسان دوست امداد لے جانے والے جہاز حنظلہ پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے اس اقدام کو سمندری ڈکیتی اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جارحانہ اقدام، فلسطین میں نسل کشی کی پالیسی، غزہ کے ظالمانہ محاصرے کو جاری رکھنے اور نہتی عوام کو بھوک و قحط کی جانب دھکیلنے کی کوشش ہے۔ اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ حنظلہ اور اس سے پہلے میڈلین امدادی جہاز پر حملہ، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے لئے ضروری ہے کہ تمام ممالک اور عالمی ادارے اس جارحیت کی مذمت کریں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ فوری طور پر غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے، بلا روک ٹوک انسان دوست امداد پہنچائی جائے اور امداد کی تقسیم صرف بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ طریقہ کار کے تحت ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بین الاقوامی
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔