کراچی میں ہلاک دہشتگردوں سے ملنے والی ڈائری میں کیا درج تھا؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
کراچی کے علاقے منگھوپیر میں مبینہ پولیس مقابلے کے بعد 3 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا، سی ٹی ڈی نے اطلاع ملنے پر ایک مکان پر چھاپہ مارا جس کے بعد پولیس اور دہشتگردوں میں فائرنگ کا تبادلہ، چھاپہ فتنہ الخوارج دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پرمارا گیا۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق بم ڈسپوزل عملے نے مکان کی سرچنگ مکمل کرلی، مکان سے دھماکا خیز مواد، دستی بم، ایس ایم جی رائفل اور دیگر سامان برآمد ہوا، لاشیں شناخت اور قانونی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا انجام عبرتناک موت ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی
ڈی ایس پی سی ٹی ڈی راجا عمر خطاب نے سول اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ 2 ہلاک ملزمان کی شناخت زعفران اور قدرت اللہ کےنام سے ہوئی، زعفران پر حکومت نے 2 کروڑ روپے انعام رکھا ہوا تھا۔ ہلاک دہشتگردوں میں ایک خودکش حملہ آور بھی تھا، ہلاک تیسرے دہشتگرد سے متعلق معلومات حاصل کر رہے ہیں۔
راجا عمر خطاب کا کہنا تھا کہ ہلاک دہشتگرد نےگزشتہ سال چائینیز پر حملہ کیا تھا، دہشتگردوں سےگرینیڈ، خودکش جیکٹس برآمد ہوئی ہیں اور ایک ڈائری ملی ہے جس میں ٹارگٹ لکھے ہوئے تھے۔ گھر میں موجود تمام دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں ملزمان جس گھر میں چھپے ہوئے تھے اس کے مالک کے بارے میں تفصیلات لی جا رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دہشتگرد کراچی منگھوپیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دہشتگرد کراچی منگھوپیر
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔