جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری کے لیے جدید اقدامات، پنجاب کو سرسبز بنانے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ جنگلات کا رقبہ بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور پنجاب حکومت اس مقصد کے لیے جدید ترین اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پلانٹس فار پاکستان‘ وزیراعلیٰ پنجاب کا وژن ہے، جس کے تحت شجرکاری مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔
مریم اورنگزیب نے لاہور میں شجرکاری مہم سے خطاب میں بتایا کہ پنجاب میں پہلی بار فاریسٹ فائر کنٹرول فورس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے، جبکہ جنگلات کی نگرانی کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے آسٹریلوی ٹیکنالوجی رواں سال نصب کی جائے گی، جو ممکنہ آتشزدگی کی پیشگی اطلاع دے گی۔
مزید پڑھیں: شجرکاری مہم کے دوران ملک بھر میں 4 کروڑ 17 لاکھ پودے لگائے جائیں گے، وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نے ہر درخت کی مانیٹرنگ اور میپنگ کی ہے اور جھوٹے اعداد و شمار کے بجائے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ رنگ روڈ کے اطراف 3 لاکھ درخت لگائے جائیں گے اور پی ایچ اے نے بھی پودے لگانے کی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ مریم اورنگزیب کے مطابق جنگلات کی اراضی پر قبضے کا خاتمہ کرایا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں سموگ پر بھی نمایاں طور پر قابو پایا گیا ہے، اور بھٹوں کو زیگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کا ہر شہر سرسبز بنانے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’پلانٹس فار پاکستان‘ پنجاب جنگلات کا رقبہ لاہور میں شجرکاری مہم مریم اورنگزیب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پلانٹس فار پاکستان جنگلات کا رقبہ لاہور میں شجرکاری مہم مریم اورنگزیب مریم اورنگزیب شجرکاری مہم کے لیے
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔