اگر ایک بھی رافیل نہیں گرا تو مودی 35 طیارے قوم کو دکھائیں، کانگریس کا بھارت سرکار کو چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ گرپریت سنگھ اوجلا نے وزیرِاعظم نریندر مودی کو چیلنج دیا ہے کہ وہ تمام 35 رافیل طیاروں کی عوامی نمائش کریں اور دنیا کو دکھائیں کہ آپریشن سندور کے دوران ایک بھی طیارہ تباہ نہیں ہوا۔
“PM Modi must parade all 35 Rafale jets, show world that not a single jet was shot down during Operation Sindoor.
– Congress MP Gurjeet Singh Aujla pic.twitter.com/iS9uSzDuDL
— News Arena India (@NewsArenaIndia) July 28, 2025
گرجیت سنگھ اوجلا کا کہنا تھا کہ بھارتی عوام اور عالمی برادری کو یقین دلانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت یہ ثابت کرے کہ رافیل بیڑے کو کسی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو اپنے دعوؤں پر اعتماد ہے تو اسے چاہیے کہ وہ تمام طیاروں کو پریڈ میں پیش کرے تاکہ شکوک و شبہات کا ازالہ ہو۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی کے دوران 5 طیارے گرائے گئے، صدر ٹرمپ نے بھی تصدیق کر دی
انہوں نے یاد دلایا کہ حالیہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہ بیان دیا تھا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے 5 فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے مار گرائے۔ اوجلا کے مطابق، یہ بیان بھارتی دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے اور حکومت پر لازم ہے کہ وہ حقیقت سامنے لائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رافیل طیارے کانگریس گرجیت سنگھ اوجلا مودی مودی سرکار
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رافیل طیارے کانگریس گرجیت سنگھ اوجلا مودی سرکار
پڑھیں:
صرف ایک لفظ ’بم‘ نے آسمان میں اڑتے طیارے کو واپس موڑ دیا، حیران کن حقیقت سامنے آگئی
نیویارک: امریکا سے اسپین جانے والی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی ایک پرواز کو دورانِ سفر اس وقت واپس موڑ دیا گیا جب ایک بلوٹوتھ ڈیوائس کے مشکوک نام نے سیکیورٹی الرٹ پیدا کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز 236 ہفتے کے روز نیوآرک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے شہر پالما ڈی مایورکا کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ بوئنگ 767 طیارے میں تقریباً 190 مسافر اور 12 عملے کے ارکان سوار تھے۔
پرواز کو روانہ ہوئے تقریباً تین گھنٹے گزر چکے تھے کہ اچانک سیکیورٹی خدشات کے باعث پائلٹ نے طیارے کا رخ واپس نیوآرک کی جانب موڑ دیا۔ اطلاعات کے مطابق پرواز کے دوران مسافروں کو اپنے بلوٹوتھ آلات بند کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم ایک ڈیوائس مسلسل سسٹم میں Bomb کے نام سے ظاہر ہو رہی تھی۔
عملے کی جانب سے متعدد اعلانات کے باوجود متعلقہ ڈیوائس کی شناخت نہ ہونے پر سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے، جس کے بعد ایئرلائن اور پائلٹ نے احتیاطی تدابیر کے تحت طیارے کو واپس لے جانے کا فیصلہ کیا۔
طیارے کی بحفاظت لینڈنگ کے بعد تمام مسافروں کو اتار لیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جہاز کی مکمل تلاشی لی۔ امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA)، کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) اور دیگر اداروں نے بھی اضافی جانچ پڑتال کی۔
بعد ازاں تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مشکوک ڈیوائس دراصل ایک 16 سالہ مسافر کی فٹ بِٹ (Fitbit) اسمارٹ ڈیوائس تھی، جس کا نام Bomb رکھا گیا تھا۔ اسی نام کی وجہ سے سیکیورٹی نظام میں غلط فہمی پیدا ہوئی اور پرواز کو واپس موڑنا پڑا۔
یونائیٹڈ ایئرلائنز نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر طیارے کو واپس لایا گیا تھا۔ تمام جانچ مکمل ہونے کے بعد مسافروں کو متبادل پرواز کے ذریعے اسپین روانہ کیا گیا، جو اگلے روز اپنی منزل پر پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FBI) بھی واقعے کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم اب تک کسی شخص کے خلاف فوجداری مقدمہ یا الزام عائد نہیں کیا گیا۔