حسن ابدال: برساتی نالےمیں ڈبل کیبن ڈالا بہہ گیا، 1 ہی خاندان کے 10 افراد شامل
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
محمد عمران: اٹک میں حسن ابدال برساتی نالےمیں ڈبل کیبن ڈالا بہہ گیا،گاڑی میں1ہی فیملی کے 10افرادسوارتھے ،5افرادکوزندہ نکال لیا گیا ،5کی تلاش جاری،لاپتاافرادمیں 4خواتین اور 1بچہ شامل ہے۔
اٹک کی تحصیل حسن ابدال کےعلاقہ جھادی کس کے قریب پیش ایاجہاں برساتی نالہ میں پلی کےاوپر پانی زیادہ ہونے سے ویگوڈالہ پانی میں بہہ گیا بہہ جانے والی گاڑی میں ایک ہی فیملی کے دس افراد سوار تھے جن میں سے پانچ افراد کو زندہ بحفاظت نکال لیاگیاجںکہ پانچ افراد جن میں چارخواتین اور ایک بچہ شامل ہےتاحال لاپتہ ہیں جن کو نکالنے کے لیے ریسکیو کی غوطہ خور ٹیمیں آپریشن میں مصروف عمل ہےاپریشن کی نگرانی ڈسٹرکٹ
ایمرجنسی آفیسر علی حسین خودکررہے ہیں۔متاثرہ فیملی کاتعلق واہ کینٹ سے ہے جو بھلڑجوگی سےاپنے فارم ہاؤس جارہے تھے۔۔۔
اٹک/حادثہ
آئندہ 24گھنٹوں موسم کیسا رہے گا؟ بڑی پیشگوئی کردی گئی
اٹک۔حسن ابدال برساتی نالہ میں ویگوڈالابہہ گیا۔
اٹک۔گاڑی میں ایک ہی فیملی کے 10افرادسوارتھے ۔
اٹک۔پانچ افرادکوزندہ نکال لیا گیا جبکہ پانچ افراد لاپتہ ۔
اٹک۔لاپتاافرادمیں 4خواتین اور ایک بچہ شامل۔
اٹک۔ریسکیوکی غوطہ خور ٹیم آپریشن میں مصروف ۔ریسکیو
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پانچ افراد حسن ابدال بہہ گیا
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔