ہر محاذ پر ناکامی، مودی سرکار کا جھوٹا دیش بھگتی بیانیہ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
مودی سرکار کی جنگی اور سفارتی ناکامیوں اور پارلیمنٹ میں حقیقت چھپانے کی ناکام کوششوں نے عوامی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
آپریشن سندور ہو یا مہادیو، ہر محاذ پر مودی سرکار کی ناکامی بے نقاب ہو چکی ہے جبکہ پارلیمانی اجلاس بھی حقیقت چھپانے میں ناکام رہے۔
پارلیمنٹ میں اپنے ہلاک ہونے والوں کو فراموش کر کے مودی سرکار نے نام نہاد دیش بھگتی کی حقیقت بے نقاب کر دی۔
شبھم دویدی کی اہلیہ ایشانیا دویدی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم مودی نے پارلیمنٹ میں طویل تقریر کی، مگر ان 26 ہلاک ہونے والوں کا ذکر تک نہ کیا جنہوں نے وطن پر قربانی دی، سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے ہلاک ہونے والوں کو بھلا دیا۔
انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کا شکریہ جنہوں نے ان کو پارلیمنٹ میں یاد رکھا، جنگ بندی روکنے کا فیصلہ صرف بھارت کو کرنا چاہیے تھا، کسی تیسرے فریق کو نہیں۔
ایشانیا دویدی کا شکوہ بھارت کی ان ہزاروں ماؤں، بیویوں اور بیٹیوں کی آواز ہے جنہیں مودی سرکار نے نظر انداز کیا۔ جاں بحق کے ورثا نے مودی سرکار کی خاموشی پر سوال اٹھا کر جھوٹے جنگی بیانیے کی اصلیت سامنے رکھ دی۔
پہلگام فالس فلیگ کے ثبوت پیش کرنے کے بجائے مودی سرکار مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، جو خود ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ آپریشن سندور کی شکست کے بعد مودی سرکار نے عوامی اعتماد بحال کرنے کے بجائے خاموشی اور سیاسی بچاؤ کا راستہ اختیار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پارلیمنٹ میں مودی سرکار
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔