مودی سرکار کی جنگی اور سفارتی ناکامیوں اور پارلیمنٹ میں حقیقت چھپانے کی ناکام کوششوں نے عوامی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

آپریشن سندور ہو یا مہادیو، ہر محاذ پر مودی سرکار کی ناکامی بے نقاب ہو چکی ہے جبکہ پارلیمانی اجلاس بھی حقیقت چھپانے میں ناکام رہے۔

پارلیمنٹ میں اپنے ہلاک ہونے والوں کو فراموش کر کے مودی سرکار نے نام نہاد دیش بھگتی کی حقیقت بے نقاب کر دی۔

شبھم دویدی کی اہلیہ ایشانیا دویدی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم مودی نے پارلیمنٹ میں طویل تقریر کی، مگر ان 26 ہلاک ہونے والوں کا ذکر تک نہ کیا جنہوں نے وطن پر قربانی دی، سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے ہلاک ہونے والوں کو بھلا دیا۔

انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کا شکریہ جنہوں نے ان کو پارلیمنٹ میں یاد رکھا، جنگ بندی روکنے کا فیصلہ صرف بھارت کو کرنا چاہیے تھا، کسی تیسرے فریق کو نہیں۔

ایشانیا دویدی کا شکوہ بھارت کی ان ہزاروں ماؤں، بیویوں اور بیٹیوں کی آواز ہے جنہیں مودی سرکار نے نظر انداز کیا۔ جاں بحق کے ورثا نے مودی سرکار کی خاموشی پر سوال اٹھا کر جھوٹے جنگی بیانیے کی اصلیت سامنے رکھ دی۔

پہلگام فالس فلیگ کے ثبوت پیش کرنے کے بجائے مودی سرکار مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، جو خود ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ آپریشن سندور کی شکست کے بعد مودی سرکار نے عوامی اعتماد بحال کرنے کے بجائے خاموشی اور سیاسی بچاؤ کا راستہ اختیار کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پارلیمنٹ میں مودی سرکار

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مفرور یوٹیوبرز عادل راجہ اور شاہد قاضی کا پاکستان مخالف بیانیہ بے نقاب
  • ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان